تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 308

میں نے ایک نئی بات پیش کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ مکہ والے مخالفت بھی کریں۔اس کو پیشگوئی کس لحاظ سے قرار دیا جا سکتا ہے۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو ہر مدعی کو مخالفت نصیب نہیں ہوتی۔دنیا کے متعلق انسانی ارادے بے شک مخالفت پیدا کر دیتے ہیں۔مگر الہام کے نازل ہونے کا دعویٰ کرنا یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو ضرور مخالفت پیدا کرے۔مثلاً اگر کوئی شخص اس ارادہ سے کھڑا ہو جائے کہ وہ دوسرے کے گھر پر قبضہ کر لے گا تو دوسرا شخص اس سے ضرور لڑے گا۔لیکن اگر وہ یہ کہے گا کہ مجھے الہام ہوتا ہے تو دوسرے کو کوئی غصہ نہیں آئے گا۔وہ زیادہ سے زیادہ یہی سمجھے گا کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔جو ایسی باتیں کہتا ہے تو یہ بات بالکل غلط ہے کہ جو بھی مدعی الہام دنیا میں کھڑا ہو ضرور اس کی مخالفت ہوتی ہے۔مجھے ایک دفعہ ظہیر الدین اروپی نے جو مصلح موعود ہونے کا مدعی تھا بڑے جوش سے لکھا کہ میں اتنے عرصہ سے آپ کے خلاف اشتہار اور ٹریکٹ وغیرہ شائع کر رہا ہوں مگر آپ ان میں سے کسی کا جواب ہی نہیں دیتے۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ مجھے مان لیں۔مگر یہ کیا بات ہے کہ آپ بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور مخالفت بھی نہیں کرتے۔اگر آپ اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم مخالفت ہی کریں خاموش کیوں بیٹھے ہیں۔میں نے اسے جواب میں لکھا کہ مخالفت بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نصیب ہوتی ہے اور یہ بھی سچائی کی ایک علامت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا کہ تمہارے اندر یہ علامت بھی پائی جائے۔اس لئے خواہ تم کتنی ہی خواہش رکھو کہ لوگ تمہاری مخالفت کریں تمہیں یہ مخالفت بھی نصیب نہیں ہو سکتی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ جو مدعی بھی کھڑا ہو لوگ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں۔مخالفت بھی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی۔بلکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے چنانچہ دیکھ لو احمدیت کی مخالفت ہر ملک میں ہوئی لیکن بہائیت کی مخالفت اس طرح نہیں ہوئی۔صرف بابیوں کی مخالفت ایران میں ان کی سیاسی چالوں کی وجہ سے ہوئی۔حالانکہ وہ لوگ قرآن کو منسوخ قرار دیتے اور بہاء اللہ کی شریعت اس کی بجائے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔مسلمان یہ سب باتیں دیکھتے اور جانتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ بہائیوں کی کوئی مخالفت نہیں کرتے۔بلکہ ان کو اپنے گلے سے لگاتے ہیں۔لیکن جہاں احمدیت کا ذکر آ جائے وہاں فوراً مخالفت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس اوّل تو یہ بات ہی غلط ہے کہ مخالفت ایک قیاسی امر تھا۔اور ضروری تھا کہ لوگ آنحضرتؐکو اور آپ کے ساتھیوں کو تکالیف میں مبتلا کرتے۔دوسرے سوال یہ ہے کہ اگر یہ قیاس ہی تھا تو نبوت کے دعویٰ کے تین سال کے بعد کیوں پیدا ہوا۔شروع شروع میں ہی یہ قیاس کیوں نہ کر لیا گیا کہ مکہ والوں کی طرف سے اسلام کی شدید مخالفت ہو گی۔پھر ایک اور بات یہ ہے کہ ایک مخالفت وہ ہوتی ہے جو انسان خود کرواتا ہے۔مثلاً کسی شخص نے ارادہ کیا کہ