تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 307

ان کے لئے کوئی مشکل نہیں تھا۔وہ سازوسامان اور اسلحہ سے آراستہ تھے اور مکہ والے بالکل نہتّے تھے۔وہ ایک باقاعدہ فوج کا مقابلہ کس طرح کر سکتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے ان میں وہ مرض پیدا کر دیا جس کے نام سے ہی حبشیوں کی جان نکل جاتی ہے۔چنانچہ اِدھر مرض پیدا ہوا اور ادھر انہوں نے ہتھیار رکھ دیئے کہ اب ہمارا خاتمہ قریب ہے۔چنانچہ اس کے بعد ان میں موتیں شروع ہو گئیں اور سارے لشکر میں بھاگڑ مچ گئی۔یہ قدرتی بات ہے کہ جب ایک شخص بھاگتا ہے تو دوسرے کے دل میں بھی کمزوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔جب لشکر کا ایک حصہ سراسیمہ اور پریشان ہو کر بھاگا تو دوسرے حصہ کے اوسان بھی خطا ہو گئے اور اس نے بھی بھاگنا شروع کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یمن پہنچنے سے پہلے پہلے اس کے لشکر کا بہت بڑا حصہ برباد ہو گیا اور جس مقصد کے لئے وہ مکہ پر حملہ آور ہوا تھا خدا تعالیٰ نے اس میں اسے خائب وخاسر اور ناکام و نامراد رکھا۔اللہ تعالیٰ ان تمام واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔کہ لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ آخر ہم یہ باتیں کیوں کر رہے تھے۔ہم اس دعا کو پورا کرنے کے لئے یہ سب باتیں کر رہے تھےجو ابراہیمؑ نے کی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ(البقرۃ:۱۳۰) اب یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جو اس شہر کا اصل مقصود تھا جس کے لئے اڑھائی ہزار سال سے مکہ کی بنیاد رکھی گئی تھی جب وہ ظاہر ہو جائے تو خدا اس کی طرف توجہ نہ کرے۔پس فرماتا ہے لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ۔وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ ہم شہادت کے طور پر اس شہر کو پیش کرتے ہیں۔اس حالت میں جبکہ تو مکہ کی بنیاد کا مقصود ہے تیرے مقصود ہونے کی صورت میں مکہ کی جو قیمت ہے وہ تیرے غیر مقصود ہونے کی صورت میں ہرگز نہیں۔مکہ کی عظمت اور اس کا جلال محض تیری وجہ سے ہے۔اب اس آیت کے معنے یوں ہوں گے کہ (۱)ہم مکہ کو شہادت کے طور پیش کرتے ہیں جس میں مسلمانوں پر کئی قسم کے مظالم ہونے والے ہیں۔یعنی ہم نے گذشتہ سورتوں میں مخالفین اسلام کی جن منظّم سازشوں کا ذکر کیا ہے یہ مکہ خود ان سازشوں کا ثبوت بہم پہنچا دے گا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مخالفت تو قیاسی امر ہے۔جو مدعی بھی کھڑا ہوتا ہے لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔یہ تو نہیں ہوتا کہ اس کی باتوں کو سنتے ہی لوگ فوراً ایمان لے آئیں اور کسی قسم کی مخالفت نہ کریں جب بھی کوئی ایسا مدعی کھڑا ہوتا ہے جو دوسروں کے عقائد کے خلاف کوئی بات پیش کرتا ہے۔لوگ اس کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ میری مخالفت ہو گی اور مسلمانوں کو تکالیف پہنچائی جائیں گی۔یہ پیشگوئی کس طرح بن گیا۔یہ تو ایک قیاسی امر تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے قیاس کر لیا ہو گا کہ چونکہ مکہ والوں کے سامنے