تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 306
تو ان کی تلواریں جھک جاتیں اور وہ کہتے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں لڑائی جائز نہیں۔پھر عرب لوگ وہ تھے جو اپنا گذارہ نہایت تنگی سے کرتے۔انہیں کھانے پینے کے سامانوں کے لحاظ سے کسی قسم کی آسائش اور سہولت میسر نہیں تھی۔مگر جب ذی الحجہ کے دن آتے تو وہ اپنے اونٹوں پر کجاوے کستے اور بے آب و گیاہ میدانوں اور بیابانوں میں اپنے اونٹوں کو ایڑیاں مارتے ہوئے مکہ میں آتے اور حج بیت اللہ کے فرض کو سرانجام دیتے۔پھر مکہ وہ شہر تھا جسے خدا نے ہر قسم کی آفات سے بچایا اور جب بھی کوئی دشمن اس پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو ناکام کیا۔ابرہہ آیا اور وہ اس ارادہ سے آیا کہ وہ اس شہر کو تباہ کر دے گا۔وہ خانۂ کعبہ کو گرا دے گا۔مگر اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے تمام ارادوں اور اس کی تدابیر کو خاک میں ملا دیا اور آسمانی عذاب کا اسے نشانہ بنا دیا۔یہ خدا تعالیٰ کا کیسا زبردست نشان ہے جو اس نے مکہ کی حفاظت کے سلسلہ میں دکھایا اور دنیا پر ثابت کر دیا کہ بیت اللہ کا میں محافظ ہوں کوئی اور محافظ نہیں ہے۔ابرہہ یمن کا گورنر تھا اور حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے مقرر تھا۔عرب میں اگر کوئی آباد اور اچھا علاقہ ہے تو وہ یمن کا ہی ہے۔بڑا زرخیز علاقہ ہے۔زراعت بھی اچھی ہوتی ہے اور پھل بھی وہاں کثرت سے ہوتے ہیں۔ایسے آباد علاقہ اور سب سے طاقتور علاقہ کا گورنر جو بہت بڑی فوجوں کا مالک تھا دس ہزار لشکر کے ساتھ آیا اور اس ارادہ اور نیت سے آیا کہ میں مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔مگر خدا تعالیٰ نے اس کے لشکر میں چیچک کی وبا پیدا کر دی۔اور حبشی جو اس کی فوج میں شامل تھے وہ ایک ایک کر کے ہلاک ہونے لگ گئے۔حبشی لوگوں میں چیچک کا مرض نہایت مہلک ہوا کرتا ہے۔اگر کسی حبشی کو یہ مرض ہو جائے تو اس کی موت یقینی ہوتی ہے۔دنیا میں مختلف امراض مختلف قوموں سے تعلق رکھتی ہیں۔چیچک کا مرض حبشیوں کے لئے نہایت خطرناک ہوتا ہے اور ڈیسنٹری کا مرض یورپین لوگوں کے لئے نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ایک شخص اچھا بھلا ہوتا ہے ہل ہاتھ میں لئے اپنی زمین کی طرف جارہا ہوتا ہے کہ راستہ میں اسے کوئی دوست ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے سناؤ کیسا حال ہے۔وہ کہتا ہے اچھا ہے۔صرف کچھ پیچش لگ گئی ہے۔لیکن انگریز کو ذرا بھی پیچش ہو فوراً اس کا دل ڈر جاتا ہے۔اور وہ خیال کر لیتا ہے کہ اب میری موت قریب آ پہنچی ہے۔غرض مختلف امراض کا صرف افراد سے ہی نہیں بلکہ مختلف قوموں سے بھی تعلق ہوتا ہے۔اور جب کسی قوم میں اس کا مخصوص مرض پیدا ہو جائے تو وہ قوم تباہ ہونی شروع ہو جاتی ہے۔حبشیوں کے لئے چیچک بڑا جان لیوا مرض ہے۔وہ اس کا نام بھی سن لیں تو ان کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ ابرہہ کے لشکر میں چیچک کا مرض پیدا ہو گیا اور سب میں ایک کھلبلی پیدا ہو گئی۔یوں مکہ کو فتح کرنا