تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 280

آرام اور مزے کا وقت تھا مگر اس نے سارا مزہ خراب کر دیا انگریزوں کی کیا مجال ہے کہ وہ حضور کی شاہی کو کوئی نقصان پہنچا سکیں۔غرض بادشاہ کو انہوں نے ناچ گانوں اور مرغوں کے لڑوانے میں ہی مشغول رکھا اور انگریزی فوج لکھنؤکے اندر داخل ہو گئی الغرض محبت مال قوم میں غدّاری پیدا کر دیتی ہے اس لئے اگر کوئی قوم ترقی کرنا چاہے تو اسے اپنے افراد کے قلوب میں سے مال کی محبت کو مٹا دینا چاہیے اس کے بغیر وہ حقیقی اور پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔چونکہ یہاں کفار کا ذکر تھا اور انہیں یہ بتایا جا رہا تھا کہ تم تباہ ہو جاؤ گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ مضمون بیان کیا کہ تمہاری تباہی کے سامان کہیں باہر سے نہیں آئیں گے بلکہ تمہارے اندر ہی تمہاری بربادی کے سامان موجود ہیں۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی قوم کا ہر فرد جانتا ہے کہ اگر میں لڑائی میں مارا گیا تو مجھ سے بڑھ کر شفیق باپ میرے بچوں کے لئے موجود ہے۔مسکین جانتا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو طاقت ملی تو مجھے کھانا ملے گا، مجھے کپڑا ملے گا، مجھے بیماری کے وقت علاج میسر آئے گا اور مجھے فتوحات میں برابر کا حصہ ملے گا۔باپ دادا سے ورثہ حاصل کرنے والا جانتا ہے کہ میں نے اپنے مال کو تلف نہیں کرنا بلکہ اسے قومی کاموں پر صرف کرنا اور اسے پہلے سے بھی زیادہ بڑھانا ہے تاکہ قوم کا قدم ترقی کی طرف بڑھے تنزل کی طرف نہ جھکے۔اور اگر کسی کے پاس مال ہے تو وہ اس سے محبت نہیں رکھتا۔چندے کے وقت سارے کا سارا مال لے آتا ہے اور پھر اس بات کی احتیاط رکھتا ہے کہ اس کے مال میں کوئی حرام پیسہ نہ آ جائے جب ترقی کی تمام علامات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں میں پائی جاتی ہیں اور تنزل کی تمام علامات تم میں موجود ہیں تو تم یہ خیال ہی کس طرح کر سکتے ہو کہ تم غالب آ جاؤ گے اور مسلمان مغلوب ہو جائیں گے۔بے شک تعداد کے لحاظ سے تم زیادہ ہو مگر بہت سی چڑیاں باز پر فتح حاصل نہیں کر سکتیں۔تم میں سے ہر شخص وہ ہے جو یتامٰی کی خبرگیری نہیں کرتا اور اس لئے وہ انتہائی طور پر بزدل اور ڈرپوک ہے۔تم میں سے ہر شخص وہ ہے جو غرباء کی اعانت نہیں کرتا اس لئے تمہیں قومی جنگوں کے وقت کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔تم میں سے ہر شخص وہ ہے جسے اپنے باپ دادا سے جب ورثہ میں روپیہ ملتا ہے تو وہ اسے عیاشی میں برباد کر دیتا ہے۔تم میںسے ہر شخص وہ ہے جس کے دل میں مال کی انتہائی محبت پائی جاتی ہے اور اس وجہ سے جب قوم کے لئے مال کی ضرورت ہو تم میں سے کوئی شخص روپیہ خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔جب تمہاری یہ حالت ہے اور مسلمانوں کی وہ حالت تو یہ لازمی بات ہے کہ مسلمان جیتیں گے اور تم ہارو گے۔یہی چیز ہے جو ہماری جماعت کے افراد کو اپنے مدنظر رکھنی چاہیے۔اگر ہماری جماعت ترقی کرنا چاہتی ہے تو