تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 279

مزدوری ماری جائے گی اور صنعتی لحاظ سے قوم کو شدید نقصان پہنچے گا۔پس دوسرا نقصان مال کی محبت کا یہ ہے کہ قوم صنعتی لحاظ سے ترقی سے محروم رہ جاتی ہے۔تیسرا نقصان یہ ہے کہ حُبِّ مال کی وجہ سے قومی چندوں میں کمی آ جاتی ہے۔جب بھی کوئی تحریک ہو مال کی محبت غالب آ جاتی ہے اور قومی تحریکات میں حصہ لینے کے لئے انسان تیار نہیں ہوتا۔چوتھے اس کا یہ بھی نتیجہ ہوتا ہے کہ جن کے دلوں (میں) مال کی محبت ہوتی ہے وہ قومی ایثار کے وقت دشمن کے غلبہ سے ڈر کر غدار بن جاتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (اٰل عمران:۱۴۱) لڑائی میں کبھی ایک کا پلّہ بھاری ہو جاتا ہے اور کبھی دوسرے کا۔اونچ نیچ ضرور ہوتی رہتی ہے ایسی حالت میں وہ شخص جس کے دل میں مال کی محبت ہوتی ہے اگر اسے ذرا بھی یہ پتہ لگے کہ دشمن غالب آنے والا ہے تو وہ چوری چھپے دشمن کے ساتھ ساز باز شروع کر دیتا ہے اور اپنی قوم سے غدّاری کرتا ہے محض اس لئے کہ اس کا مال محفوظ رہے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انگریز سود لے کر بھی لوٹتے ہیں اور سود دے کر بھی لوٹتے ہیں پھر اس کے متعلق ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔آپ فرماتے اودھ کی اسلامی حکومت اس طرح تباہ ہوئی کہ پہلے انگریزوں نے لوگوں میں یہ تحریک شروع کر دی کہ اگر تم ہمارے بنک میں اپنا روپیہ جمع کرو تو تمہیں اڑھائی فیصدی نفع دیا جائے گا۔یہ لالچ اتنا بڑا تھا کہ لوگوں نے اپنا تمام روپیہ کلکتہ کے انگریزی بنک میں جمع کرا دیا۔عورتوں نے اپنے زیورات تک بیچ ڈالے اور روپیہ انگریزوں کے حوالے کر دیاکیونکہ انہیں آئندہ کے متعلق بڑی بڑی امیدیں دلائی گئی تھیں۔انہیں کہا گیا تھا کہ اگر تمہارا دس لاکھ روپیہ جمع ہوا تو تمہیں پچیس ہزار روپیہ سود دیا جائے گااور پھر تمارا اصل مال بھی بالکل محفوظ رہے گا جب تم مانگو گے روپیہ واپس دے دیا جائے گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا سارے کا سارا روپیہ کلکتہ کے انگریزی بنک میں جمع ہو گیا اس کے بعد انگریزی فوج نے حملہ کر دیا۔لکھنؤ جو اودھ کی حکومت کا دارالسلطنت تھا وہاں کے بڑے بڑے سرداروں سے انگریزوں نے کہہ دیا کہ خبردار! تم میں سے کوئی شخص بادشاہ کو یہ خبر نہ پہنچائے کہ انگریزی فوج حملہ کے لئے آ رہی ہے اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارا جو روپیہ بنک میں جمع ہے وہ ضبط ہو جائے گا۔ان غدار افسروں نے ایسا ہی کیا۔بادشاہ مرغ لڑوا رہا تھا اور کنچنیوں کے ناچ گانے میں مشغول تھا کہ ایک شخص بول اٹھا اور کہنے لگا کہ حضور سنا ہے انگریزی فوج آ رہی ہے وہ افسر جو اندرونی طور پر انگریزوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے انہوں نے اس کو ڈانٹنا شروع کر دیا اور بادشاہ سے کہا حضور کے اقبال کے سامنے انگریزوں کی کیا مجال ہو سکتی ہے یہ ایک بے وقوف شخص یوں ہی بول پڑا ہے۔یہ حضور کے