تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 278

جس کو کوئی شخص بدل نہیں سکتا جس نے کوئی نمایاں کام کیا ہوتا ہے اس کی اولاد خواہ مستحق ہو یا نہ ہو مگر بہرحال اس عزت کا کچھ نہ کچھ حصہ اولاد کو بھی حاصل ہو جاتا ہے۔اب یہ لازمی بات ہے کہ جب ایسے لوگوںمیں سستی پیدا ہوجائے گی تو چونکہ بڑے خاندان ہی لیڈر ہوتے ہیں ان کی سستی کا قوم پر یہ اثر پڑے گا کہ اس کا شیرازہ منتشر ہوجائے گا جب وہ لوگ جنہیں قوم میں عزت حاصل ہو جن کے ہاتھ میں لیڈری کی باگ ڈور ہو، باپ دادا کی جائیداد پر بیٹھے روٹیاں توڑ رہے ہوں تو یہ قدرتی بات ہے کہ اس قوم میں لیڈر کم ہو جائیں گے۔بے شک کچھ نئے لیڈر بھی بن جاتے ہیں مگر کچھ باپ دادا کی عزت اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے لیڈر سمجھے جاتے ہیں اگر ان میں اس قسم کی سستی پیدا ہو جائے تو ایک قسم کے لیڈر ہی رہ جائیں گے دوسری قسم کے لیڈر نہیں رہیں گے اور اس طرح قوم کے راہنما محدود ہو جائیں گے۔چوتھی چیز محبت مال ہے۔مال کی محبت حلال وحرام کا امتیاز اڑا کر انسان کو ظلم کی طرف مائل کر دیتی ہے۔جس شخص کے دل میں انتہائی طور پر مال کی محبت ہو گی وہ حلال اور حرام میں کوئی امتیاز نہیں کرے گا۔حلال ذریعہ سے مال آئے گا تو اسے بھی لے لے گا، حرام ذریعہ سے مال آئے گا تو اسے بھی لے لے گا اور جس شخص میں حلال وحرام کا امتیاز نہ رہے وہ ظلم پر آمادہ ہو جاتا ہے اور جس قوم میں ظالم پیدا ہو جائیں اس کا شیرازہ کبھی متحد نہیں رہ سکتا۔یہ ایک لازمی اور طبعی بات ہے کہ جب انتہائی طور پر مال کی محبت پیدا ہو گی حلال و حرام کی تمیز جاتی رہے گی اور جب حلال و حرام کی تمیز نہ رہے گی تو انسان ظلم سے بھی دریغ نہیں کرے گا اور جب قوم میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جن کو دوسروں کو لوٹنے میں مزا آتا ہو تو وہ قوم کبھی پنپ نہیں سکتی۔دوسرے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم صنعتی ترقی سے محروم رہ جاتی ہے جس شخص کے دل میں مال کی شدید محبت ہو وہ بعض دفعہ روپیہ کو کام پر لگانے سے ڈرتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ شاید تجارت یا صنعت میں نقصان نہ ہو جائے بہتر یہی ہے کہ میں اس کو اپنے پاس محفوظ رکھوں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال بھی نہیں بڑھتا اور غرباء کے حقوق کا بھی اتلاف ہوتا ہے۔فرض کرو دس ہزار روپیہ سے یہ ایک کارخانہ جاری کرتا اور بیس پچیس مزدور اس کارخانہ میں کام کرنے والا ہوتا تو بیس پچیس خاندان اس کے روپیہ سے پرورش پانے لگ جاتے۔آگے ایک خاندان میں اگر پانچ پانچ آدمی بھی فرض کر لئے جائیں تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ اس نے دس ہزار روپیہ خرچ کر کے سَو سوا سَو لوگوں کے لئے مزدوری مہیا کی۔لیکن اگر وہ روپیہ خزانہ میں بند کر دیتا ہے تو سَو سوا سَو آدمیوں کی روٹی ماری جاتی ہے۔اسی طرح اگر قوم میں دس ہزار مالدار ہوں اور وہ اپنے روپیہ کو خزانہ میں محفوظ رکھیں تو لاکھوں لوگوں کی