تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 268
پرورش اور مساکین کی خبر گیری کے لئے یہ نعمتیںدی گئی ہیں تم نے ان نعمتوں کو اپنا حق قرار دے کر ان کی طرف سے اپنی آنکھیں بالکل موند لیں اور ان کی ضروریات کے لئے ایک پیسہ خرچ کرنابھی روا نہ رکھا۔تمہارے سامنے کئی یتیم بچے بھوک سے مرتے رہے، کئی مساکین بھیک مانگتے اور دربدر ٹھوکریں کھاتے رہے مگر تم نے ان کی طرف ذرا بھی توجہ نہ کی بلکہ اسی خیال میں مست رہے کہ ہم بڑے آدمی ہیں۔وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ۰۰۲۰ اور ورثہ کا مال سب کا سب (عیش میں) اڑا جاتے ہو۔حلّ لُغات۔تُرَاثٌ۔تُرَاثٌ: وَرِثَ کا مصدر ہے نیز اس کے معنے ہیں مَایَـخْلُفُہُ الرَّجُلُ لِوَرَثَتِہٖ وہ مال جو آدمی اپنے وارثوں کے لئے چھوڑ جاتا ہے (اقرب) لَمًّا۔لَمًّا: قَالَ الْفَرَّاءُ اَیْ شَدِیْدًا وَفِی الصِّحَاحِ اَیْ نَصِیْبَہٗ وَنَصِیْبَ صَاحِبِہٖ(اقرب)۔فرّاء کہتے ہیں کہ لَمًّا کے معنے شدیدکے ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم سارے کا سارا مال کھا جاتے ہو یا وہ مال تمہارے قبضہ میں آتا ہے تو تم اسے بالکل چٹ کر جاتے ہو اس میں سے کچھ باقی نہیں رہنے دیتے۔لیکن صحاح میں یہ لکھا ہے کہ لَمًّا کے معنے یہ ہیں کہ تم اپنا حصہ بھی کھا جاتے ہو اور دوسروں کا حصہ بھی ہضم کر جاتے ہو(اقرب) گویا یہی نہیں کہ تم صرف اپنا حصہ لینے پر اکتفا کرو بلکہ تم اپنا حصہ بھی چٹ کر جاتے ہو اور یتامٰی و مساکین یا دوسرے بھائیوں کا جو حصہ ہو وہ بھی کھا جاتے ہو۔تفسیر۔فرماتا ہے تم اپنے اعمال کی طرف دیکھو کہ تمہاری شامتِ اعمال تمہارے لئے کیا کیا رنگ پیدا کر رہی ہے۔تم میں بجائے اس کے کہ کوئی نیک خُلق پیدا ہوتا اور تم یتامٰی اور مساکین کی خبرگیری کرتے تم نے دولت ملنے پر اسراف سے کام لینا شروع کر دیا اور اپنے روپیہ کو بالکل برباد کر دیا اس کے بعد بجائے اس کے کہ تم یہ سمجھتے کہ ہم اپنے گندے افعال کی وجہ سے اس غربت کو پہنچے ہیں اور خدا نے اس ذریعہ سے ہمیں ہوشیار کیا ہے اور آئندہ کے لئے نصیحت کر دی ہے کہ تمہیں اسراف نہیں کرنا چاہیے بلکہ روپیہ کو محفوظ رکھنا چاہیے تم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رَبِّيْۤ اَهَانَنِ ہماری تو عزت ہونی چاہیے تھی مگر خدا تعالیٰ نے ہمیںرسوا کر دیا حالانکہ خدا تو تمہیں سبق دینا چاہتا تھا ورنہ تم نے ایسے کون سے کام کئے تھے کہ خدا تعالیٰ تمہیں عزت دیتا۔یہ خدا تعالیٰ کا احسان تھا کہ اس نے