تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 267
كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَۙ۰۰۱۸ (یوں) ہرگز نہیں بلکہ تم (قصور وار ہو کہ)یتیم کی عزت نہیں کرتے۔وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِۙ۰۰۱۹ اور مسکین کو کھانا کھلا٭نے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۔حلّ لُغات۔تَحٰٓضُّوْنَ۔تَحٰٓضُّوْنَ : حَاضََّّ سے جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور حَاضَّہُ عَلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیں حَثَّ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْـھُمَا صَاحِبَہٗ۔دو شخصوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو کسی کام کے کرنے کی رغبت دلائی (اقرب ) پس لَا تَحٰٓضُّوْنَ کے معنے ہوں گے تم رغبت نہیں دلاتے۔تفسیر۔فرماتا ہے کَلَّا یوں نہیں جو تم خیال کرتے ہو کہ تم خاص طور پر دولت کے مستحق تھے اس لئے تم کو دولت ملی تھی اور خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق مستحق نہیں تھی اس لئے اسے نہیں ملی اور یہ کہ جب تم کو ابتلاءِ تکلیف آتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے حق میں بے انصافی ہوتی ہے بلکہ بات یہ ہے کہ تم کو دولت ملی تھی کہ تم غرباء پر خرچ کرو اور اس طرح ایک نیک برادری دنیا میں قائم ہو مگر بجائے اس کے تم نے تکبّر شروع کیا اور غریبوں کی خبرگیری ہی سے غفلت نہیں برتی بلکہ ان کو ذلیل بھی کیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مستحق نہیں ہو اور یتیموں کی عزت نہ کی بلکہ انہیں ذلیل سمجھا اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی تم کو ذلیل کیا اگر تم دولت ملنے پر یہ سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہ دولت اس لئے دی ہے کہ وہ دیکھے کہ تم یتیموں کی خبر گیری کرتے ہو یا نہیں اور تم ایک دوسرے سے کہتے ہو یا نہیں کہ خدا نے جب ہمیں روپیہ دیا ہے تو آؤ ہم غرباء کی خبرگیری کریں۔ہم بھوکوں کو کھانا کھلائیں ہم ننگوں کا سردیوں میں ننگ ڈھانکیں۔مگر جب اس نے تمہیں نعمتیں دیں توبجائے اس کے کہ تم یہ سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہ نعمتیں ہمیں اس لئے دی ہیں کہ لوگوں پر خرچ کی جائیں ان کی ضروریات کو پورا کریں اور ان کے دکھوں کو دور کریں تم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ خدا کا ہمارے ساتھ کوئی خاص جوڑ ہے کہ اس نے یہ نعمتیں ہمیں دی ہیں اَوروں کو نہیں دیں۔تم نے یتیموں اور مسکینوں کی ذرا بھی پروا نہ کی اور تم نے اپنے متعلق یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ ہم خدا کے خاص محبوب اور پیارے ہیں کہ اس نے ہمیں تو ان انعامات سے نوازا مگر دوسروں کو محروم رکھا، بجائے اس کے کہ تم یہ سمجھتے کہ تمہیں یتیموں کی نوٹ۔طَعَامُ الْمِسْكِيْنِمیں طَعَامُ۔اِطْعَامٌ کے مصدر کے طور پر استعمال ہوا ہے اسی لئے اس کے معنے کھانا کھلانے کے کئے گئے ہیں۔