تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 266

اندرونہ کو دنیا پر اچھی طرح ظاہر کر دیتا ہے اس لئے یہ ضرورت نہیں رہتی کہ ان پر ابتلا وارد کئے جائیں لیکن عام لوگوں کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ان کے دل پر کبھی گناہوں کی وجہ سے اتنا زنگ لگ جاتا ہے کہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی فراخی کا ان پر کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ اس کی طرف سے آنے والی مشکلات ان میں کوئی تغیر پیدا کرتی ہیں۔وہ اندھے پیدا ہوتے ہیں اور اندھے ہونے کی حالت میں ہی اس جہان سے گذر جاتے ہیں۔ایسی ہی روحانی نابینائی رکھنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ابتلا کے طور پر انہیں فراخی دیتا ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں خدا نے ہماری قدر کی حالانکہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ ان پر انعام کرے۔بسا اوقات وہی دولت اور عزت ان کو جہنم میں لے جانے کا باعث بن جاتی ہے اسی طرح جب ان پر تنگئ رزق کا دَور آئے تو کہنے لگ جاتے ہیں خدا نے ہمیں بے عزت کر دیا گویا دونوں حالتوں میں وہ اس کی حکمتوں سے آنکھ بند رکھتے اور روحانی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم میں ان لوگوں کی اصل کیفیت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے فرماتا ہے وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ(یٰسٓ:۴۸) یعنی جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے سے دوسرے مستحقین پر خرچ کرو تو وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ کیا تم چاہتے ہو کہ ہم انہیں کھانا کھلائیں جنہیں خدا نے کھانا نہیں کھلایا حالانکہ وہ چاہتا تو انہیں خود رزق دے سکتا تھا۔پس ہمیں یہ نصیحت کر کے کہ ہم ان کو دیں جن کو خدا تعالیٰ نہیں دینا چاہتا تم ثابت کر رہے ہو کہ تم بڑے ہی گمراہ ہو۔اس آیت نے آیت زیر بحث کی تشریح کر دی ہے ان کفار کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ ہم مستحق انعامات ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ہمیں دیتا ہے اور دوسرے لوگ مستحق نہیں اس لئے انہیں نہیں دیتا اور چونکہ خدا تعالیٰ کے فعل نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مستحق انعام نہیں اس لئے ہمارا بھی فرض ہے کہ انہیں نہ دیں۔یہ ظاہر ہے کہ جس کا یہ نقطۂ نگاہ ہو اس کے دل میں انعام پر اللہ تعالیٰ کا شکر پیدا نہ ہو گا۔اور اگر کوئی تکلیف آئے گی تو شکوہ پیدا ہو گا کہ خدا تعالیٰ نے ہمارا مناسب اعزاز نہیں کیا اور ہمارے درجہ کا خیال نہیں رکھا۔