تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 23

کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس کی ترقی تدریجی ہوتی ہے۔چنانچہ سورۂ طارق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا يَخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ وہ پہلے صُلب میں سے آتا ہے اور پھر ترائب اس کو ترقی دیتے ہیں۔یعنی پہلے باپ کے جسم میں نطفہ بنتا ہے۔پھر ماں کے رحم میں اس نطفہ کی پرورش ہوتی ہے اور پھر پیدائش کے بعد ماں کی چھاتیوں سے وہ غذا حاصل کر کے آہستہ آہستہ نشوونما حاصل کرتا ہے۔گویا انسانی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تدریجی ترقی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ جس طرح انسان کی ظاہری ترقی تدریجی ہوتی ہے اسی طرح اس کی روحانی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے۔یوں تو انسان ایک ہی قسم کے قویٰ لے کر پیدا ہوا ہے مگر تجربہ کی مدد سے انسانی دماغ مزید نشوونما پاتا جاتا ہے۔گویا جس طرح انسان کی جسمانی پیدائش تدریجی رنگ میں ہوتی ہے اسی طرح اس کی روحانی پیدائش بھی تدریجی رنگ میں ہوتی ہے۔اور جس طرح فرد کی پیدائش تدریجی منازل کو طے کرنے کے بعد ہوتی ہے اسی طرح قوم کی پیدائش بھی تدریجی منازل کوطے کرنے کے بعد ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ قومی دماغ ترقی کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر زمانہ کے لحاظ سے ہدایت آتی رہی ہے مگر جس طرح سبزیاں اور ترکاریاں ضروری تو ہیں مگر ان کی ضرورت کا زمانہ تھوڑا ہوتا ہے پس وہ جلد فنا ہو جاتی ہیں۔اسی طرح وہ شرائع بھی ضائع ہوتی رہیں لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی ضرورت عارضی نہیں بلکہ مستقل ہوتی ہے۔وہ جب سے پیدا ہوئی ہیں اسی رنگ میں چلتی چلی جاتی ہیں۔مثلاً سورج ہے یہ جب سے پیدا ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک اسی صورت میں چلا جا رہا ہے یہ نہیں ہوتا کہ ایک سورج مٹ جائے تو اس کی جگہ دوسرا سورج پیدا ہو جائے یا مثلًا چاند ہے جب سے یہ پیدا ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک قائم چلا آ رہا ہے۔غرض مخلوق کے دائرہ میں جہاں بعض اشیاء ایسی ہیں جن پر تباہی آئی اور وہ مٹ گئیں وہاں بعض اشیاء ایسی بھی ہیںجن پر تباہی نہیں آئی۔چنانچہ مسئلہ ارتقاء کے ماتحت محققین نے یہ تسلیم کیا ہے کہ بعض ناقص پیدائشیں بالکل معدوم ہو گئی ہیں۔مگر جب انسان پیدا ہو گیا تو یہ ارتقائی تغیّر بند ہو گیا۔پس محض اس بات پر اپنے اعتراض کی بنیاد رکھنا کہ جو چیز پیدا کی گئی ہے اسے فنا نہیں ہونا چاہیے بالکل غلط اور باطل اصول ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے کئی چیزیں پیدا کی جاتی ہیںوہ ضروری اور فائدہ بخش بھی ہوتی ہیں۔مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ فنا بھی ہو جاتی ہیں کیونکہ زمانہ تبدیل ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دنیا کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں رہتی۔مگر اس پر پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا تھا اور وہ یہ کہ تمہارے پاس اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ قرآن کبھی منسوخ نہیں ہو گا۔تم تسلیم کرتے ہو کہ تورات آئی۔وہ اپنے زمانہ کے لئے نہایت ضروری کتاب تھی مگر کچھ عرصہ کے بعد منسوخ ہو گئی۔پھر