تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 247

جب کہ وہ غم وہم کے تمثیلی سمندر کے کنارے پر کھڑا ہو گا۔یاممکن ہے کہ مصر یا اور کسی ملک میں ایسے ہی حالات پیدا ہونے پر۔اور واقعہ میں دریائے نیل کے کنارے پر یا اور کسی دریا کے کنارے پر بڑے جاہ وجلال کے ساتھ فرمائیں گے کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔کَلَّا کے معنے یہی ہیں لَاتَحْزَنْ غم مت کرو اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ میرے ساتھ میرا رب ہے یعنی ایک وتر بھی ہمارے ساتھ ہے اور وہ اس لَیْل میں سے ہمیں نکال کر لے جائے گا۔فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ پس (ذرا دیکھو تو )انسان کی حالت (کو جو) یہ ہے کہ جب اس کا رب اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔اور اس کی عزت کرتا ہے وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِؕ۰۰۱۶وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ اور اس پر نعمت کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ (دیکھو میں ایسا ذی شان ہوں کہ) میرے رب نے (بھی) میری عزت کی۔اور جب فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَهَانَنِۚ۰۰۱۷ اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔اور اس کے رزق کو تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری (بلا وجہ) بے عزتی کی۔حلّ لُغات۔اِبْتَلَاہُ۔اِبْتَلَاہُ: کے معنے ہوتے ہیں اِخْتَبَـرَہٗ۔اس کی حقیقت کو ظاہر کیا اور اِبْتَلَی الْاَمْرَ کے معنے ہوتے ہیں عَرَفَہٗ۔اس کو جان لیا۔اصل میں یہ لفظ بَلِیَ یَبْلٰی ہے اور بَلَاہُ یَبْلُوْہُ (بَلْوًا) بھی استعمال کیا جاتا ہے بَلِیَ الثَّوْبُ کے معنے ہوتے ہیں خَلَقَ کپڑا پرانا ہو گیا اور گھس گیا اور بَلَاہُ (یَبْلُوْہُ بَلْوًا) کے معنے ہیں جَرَّبَہٗ وَاخْتَبَرَہُ۔اس کا تجربہ کیا۔اس کی حقیقت کو ظاہر کیا اور اس کے اندرونہ کو معلوم کیا۔(اقرب) مفردات والے لکھتے ہیں کہ بَلَوْتُہٗ کے معنے اِخْتَبَرْتُہٗ کے اس لئے ہیں کہ خواہ یہ لفظ بَلِیَ یَبْلٰی سے ہو یا بَلَاہُ یَبْلُوْہُ بَلْوًا سے دونوں صورتوں میں اس میںپرانے ہونے کی حقیقت پائی جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں بَلَوْتُہٗ: اِخْتَبَرْتُہٗ کَاَنِّیْ اَخْلَقْتُہٗ مِنْ کَثْرَۃِ اِخْتِبَارِیْ لَہٗ یعنی بَلَوْتُہٗ کے معنے اِخْتَبَرْتُہٗ ا س لئے کئے جاتے ہیں کہ اس میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ میں نے اسے بار بار دیکھ کر پرانا کر دیا ہے۔اسی لئے ابتلا کا لفظ ایسے امر کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے جس کی انسان پوری طرح تحقیق کرلے۔جیسے انسان کپڑا خرید کر لاتا ہے تو عورتیں اس کپڑے کو ہاتھوں سے گھستی ہیں یہ دیکھنے کے لئے کہ اس کی مایا کیسی ہے یا اس کا رنگ اترے گا کہ نہیں یہ بار بار دیکھنا اس لئے