تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 246
پر عذاب نازل نہیں ہوگا بلکہ وہ عذاب جمع ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن سارے کا سارا جوہڑ ان پر الٹا دیا جائے گا۔اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ۠ؕ۰۰۱۵ تیرا رب یقیناً گھات میں (لگا ہوا) ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے تیرا رب مجرموںکی گھات میں رہتا ہے جب وہ ان کو پکڑتا ہے تو اکٹھا پکڑتا ہے۔کہتے ہیں سو سنار کی اور ایک لوہار کی۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ وہ ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے اور مجرم انسان سمجھتا ہے کہ مجھے میرے برے کاموں کی کوئی سزا نہ ملے گی۔مگر آخر ایک دن ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی گرفت میں لے لیتا اور اسے تباہ اور برباد کر دیتا ہے۔یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دشمنوں کے ساتھ سلوک ہوگا۔ہم ان کو ڈھیل دیں گے اور گیا۱۱رہ سال تک دیتے چلے جائیں گے مگر آخر ایک دن آئے گا جب قیدار کی ساری حشمت کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔اور مومنوں کے دکھ کو خوشی میں بدل دیا جائے گا۔اسی طرح اس پیشگوئی کے دوسرے ظہور کے وقت انیسو۱۹یں٭ صدی میں کوئی فرعون اتنا خطرناک ظلم کرے گا کہ جماعت پکار اٹھے گی۔یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ اے موسیٰ اب تو ہماری تباہی سر پر آ پہنچی۔اب ہم کسی طرح اس فرعون کے پنجۂ ظلم سے بچ نہیں سکتے اس وقت جماعت کا جو بھی لیڈر ہو گا وہ موسٰی کی طرح اپنے ساتھیوں سے کہے گا کَلَّا یہ بالکل غلط بات ہے کہ دشمن تمہیں تباہ اور برباد کر دے گا۔اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔میرے ساتھ میرا رب ہے اور وہ مجھے ہدایت دے دے گا۔میں نے وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ کی تشریح کر تے ہوئے بیان کیا تھا کہ جب کفار غار ثور کے منہ پر پہنچ گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گھبراہٹ طاری ہوئی تو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے ان الفاظ میں ان کو تسلی دی کہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا(التوبۃ:۴۰) یعنی غم مت کر ایک وتر بھی ہمارے ساتھ ہے۔اسی طرح جب جماعت احمدیہ کسی فرعون کے مظالم کی وجہ سے سخت گھبرا اٹھے گی اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جماعت احمدیہ کو روحانی طور پر اس کے خلیفہ اور امام کی زبان سے کیونکہ وہ دو۲ نہیں بلکہ ایک ہی وجود ہوں گے۔٭غلطی سے انیسویں صدی لکھا گیا ہے، مراد بیسویں صدی ہے جو ۱۹۰۱ء سے شروع ہو کر ۲۰۰۰ء تک ہے۔(ناشر)