تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 220
ہوجائے گی کیونکہ پیشگوئیوں میں دن نہیں گنے جاتے بلکہ ایک موٹا اندازہ بتایا جاتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان چاروں اوقات میں چار مختلف قسم کی فتوحات ظاہر ہوں۔پس ان سب سالوں میں یا ان سالوں کے لگ بھگ ضرور کسی نہ کسی رنگ میں احمدیت کو فتح حاصل ہو جائے گی۔فتح و نصرت کے نشانات قریب قریب عرصہ میں ظاہر ہونے سے یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ مومنوں کے ایمان ساتھ کے ساتھ تازہ ہوتے رہتے ہیں۔جیسے گھر سے بخیریت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلامتی کے ساتھ نکل آئے تو مومنوں کو ایک خوشی پہنچی۔جب غارِ ثور میں دشمنوں کے حملہ سے بچ گئے تو دوسری خوشی پہنچی۔مدینہ پہنچے تو تیسری خوشی حاصل ہوئی۔بدر کی جنگ میں کفار کو شکست ہوئی تو چوتھی خوشی پہنچی۔اسی طرح ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان چاروں مدتوں میں سے ہر مدت کے اختتام پر فجر کی ایک لَو ظاہر کرتا رہے۔اور اس طرح مومنوں کے ایمانوں کو تقویت دیتا رہے۔اسی رات کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے اشعار میں فرمایا ہے ؎ دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بے قرار (براہین احمدیہ جلد پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۲۹) هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍؕ۰۰۶ کیا اس میں عقل مند کے لئے کوئی قسم ہے؟ (یانہیں)۔حلّ لُغات۔حِـجْرٌ۔حِـجْرٌ کے معنے عقل کے ہیں (اقرب) اور ذِیْ حِـجْرٍ کے معنے ہوئے عقل مند انسان۔تفسیر۔هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍ کے لفظی معنے تو یہ ہیں کہ کیا اس میں قسم ہے عقل مند انسان کے لئے۔یا کیا اس میں شہادت ہے عقل مند انسان کے لئے۔مگر هَلْ سے یہ مراد نہیں کہ قسم ہے یا نہیں بلکہ هَلْ کا سوال لفظ عربی زبان میں تصدیق کے لئے آتا ہے( مغنی اللبیب زیر لفظ ’’ھل‘‘) جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ کیوں ایسا ہو گیا یا نہیں، اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسا ضرور ہو گیا ہے۔پس چونکہ اس جگہ هَلْ کے لفظ سے سوال کیا گیا ہے اس کے یہ معنے نہیں کہ لوگو بتاؤ کے اس میں عقل مند کے لئے قسم ہے یا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ کیا تم اس سے انکار کر سکتے ہو کہ اس میں عقل مند کے لئے قسم ہے۔اور ہر عقل مند انسان کو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کی