تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 218

کے کرسی پر بیٹھنے کی کوشش کی۔اور اس کے بعد ان کے دھڑ ایک دوسرے میں داخل ہونے شروع ہو گئے۔اور جب وہ کرسی پر بیٹھ گئے تو دو نہیں بلکہ ایک ہی وجود نظر آنے لگا۔یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ہم تمہارے سامنے اس شفع کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو شفع کے ساتھ وَتر بھی ہو گا۔بظاہر وہ دو۲ ہوں گے لیکن درحقیقت وہ دو۲ نہیں بلکہ ایک ہی وجود ہو گا۔دوسرے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ایسا وجود ظاہر ہو گا جسے لوگ دو۲ سمجھتے ہوں گے یعنی مہدی اور عیسٰی۔لیکن وہ وتر ہو گا یعنی ایک ہی وجود کے یہ دونوں نام ہوں گے۔اور باوجود شفع سمجھے جانے کے جب وہ ظاہر ہو گا تو وَتر ثابت ہو گا۔میں سمجھتا ہوں اس قسم کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی کہ لوگ دو مدعیوں کے امیدوار ہوں لیکن جب وقت آئے تو وہ دو۲ موعود ایک ہی موعود ثابت ہوں۔صرف یہی ایک زمانہ ہے جس میں لوگ کہتے تھے کہ ایک مسیحؑ ہو گا اور ایک مہدیؑ ہو گا۔مگر جب وہ آیا تو وتر تھا یعنی پیشگوئیوں کے لحاظ سے دو۲ کی خبر دی گئی تھی مگر حقیقت کے لحاظ سے وہ دو۲ نہیں تھے بلکہ ایک ہی وجود کے دو۲ مختلف نام تھے۔یہی بات اس آیت میں بیان کی گئی تھی کہ یہ دونوں نام ایک ہی وجود کے ہوں گے۔اور باوجود شفع سمجھے جانے کے جب وہ ظاہر ہو گا تو وتر معلوم ہوگا۔غرض اس صورت میں وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ آنے والے کی دو حقیقتیں ہوں گی۔ایک حقیقتِ شفع اور ایک حقیقتِ وتر۔وہ ایک علیحدہ وجود ہو گا اس لئے بظاہر اسلام میں دو۲ نبی نظر آئیں گے مگر چونکہ وہ فنا فی الرسول ہو کر یہ درجہ پائے گا اور اسلام پر ہی عمل کرے گااور اسی پر عمل کرائے گا۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھے گا اور وہی لوگوں سے پڑھوائے گا اس لئے دوئی کوئی پیدا نہ ہو گی بلکہ اسلام میں ایک ہی نبی رہے گا دو۲ نہ ہوں گے۔کیونکہ دو۲ تو اختلاف سے ہوتے ہیں۔اتحاد سے دو ایک ہو جاتے ہیں۔اور دوسرے یہ کہ دو۲ کاموں کی وجہ سے اسے دو۲ عہدے ملیں گے مگر درحقیقت وہ ایک ہی وجود ہو گا۔اسلام کے دوبارہ غلبہ کے سالوں کا ذکر پھر فرماتا ہے وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ۔اس حصہ آیت میں پھر ایک اور صدی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو دس تاریک راتوں کے بعد کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے معاً بعد اسلام کی ترقی نہ ہو گی وہ فجر تو اُ ن کے بعد ظاہر ہو جائے گی، شعاعِ نور نظر آ جائے گی اور لوگوں کی امیدیں بندھ جائیں گی مگر ابھی رات نہ جائے گی بلکہ ایک صدی کا ابھی وقفہ ہو گا۔اب اگر ۱۸۹۰ء کو فجر لے لو تو یہ صدی