تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 217
ایک جہت سے وہ شفع ہے اور ایک جہت سے وَتر ہے۔اور یہ مطلب ہو گا کہ لَیَالٍ عَشْرٍ کے بعد جو فجر ظاہر ہو گی وہ ایسے وجود کے ذریعہ سے ظاہر ہوگی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غیر ہوتے ہوئے پھر غیر کہلانے کا مستحق نہیں ہو گا۔بظاہر وہ دوسرا ہو گا اور شفع کہلائے گا لیکن باوجود ایک دوسرا شخص ہونے کے اس کے آنے سے دو نبی نہیں ہو جائیں گے دو امام نہیں ہو جائیں گے بلکہ وہ ایسا فنا فی الرّسول ہو گا کہ باوجود اس کے آنے کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کے ایک ہی رہیں گے۔یعنی وہ یہ کہے گا ع وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے (قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائی جلد ۲۰ صفحہ ۴۵۶) اور وہ کہے گا کہ مَنْ فَرَّقَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ الْمُصْطَفٰی فَـمَا عَرَفَنِیْ وَمَا رَاٰی (خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۹)۔جس نے کہا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ وجود ہوں۔وہ الگ ہیں اور میں الگ فَـمَا عَرَفَنِیْ وَمَا رَاٰی اس نے مجھے نہیں پہچانا بلکہ وہ تو گمراہ ہو گیا۔مجھے ایک دفعہ یہی مضمون خواب میں دکھایا گیا تھا۔مقبرہ بہشتی کی طرف جاتے ہوئے مدرسہ احمدیہ اور بکڈپو کے درمیان سے جو گلی گذرتی ہے۔اور جس کے آگے کنواں آ جاتا ہے یہاں پہلے ایک چھوٹا سا میدان تھا۔اب تو وہاں کمرے بن چکے ہیں۔میں نے رؤیا میں دیکھا کہ اس میدان میں ایک کرسی بچھائی گئی ہے اور کسی نے کہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ ایک طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔جب دوسری طرف میں نے نگاہ اٹھائی تو میں نے دیکھا اس طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لا رہے ہیں اور دونوں کے منہ اس کرسی کی طرف ہیں۔خواب میں میں سخت گھبراتا ہوں کہ یہ کیسی خطرناک غلطی ہوئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم بھی تشریف لا رہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تشریف لا رہے ہیں لیکن کرسی ایک ہے یہ تو بڑی ہتک آمیز بات ہے مگر اس وقت نہ مجھ سے اٹھا جاتا ہے کہ میں دوڑ کر کوئی اور کرسی لے آؤں اور نہ کسی اور کو یہ خیال آیا۔اس وقت میرا دل خوف سے دھڑک رہا ہے اور جوں جوں وہ قریب آ رہے ہیں میرا اضطراب بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ دونوں کرسی کے قریب پہنچ گئے۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ اب شاید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پیچھے ہٹ جائیں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پیچھے نہ ہٹے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آگے کی طرف بڑھے۔اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرے دل کی حرکت بند ہوجائے گی مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی میں نے دیکھا کہ دونوں نے اپنے اپنے جسم کو ذرا سا ٹیڑھا کر