تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 208
۲۷۱ھ میں پڑی۔تب میں نے سمجھا کہ وہ نظریہ جو یہود کا تھا اور جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تردید نہیں کی تھی وہ اپنے اندر حقیقت رکھتا تھا۔اسلام کے دوبارہ احیاء کی تاریخ کی تعیین پھر ہم دیکھتے ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (السجدۃ:۶) جس طرح خدا تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سنّت چلی آئی ہے کہ وہ آسمان سے لوگوں کی ہدایت کا انتظام کر کے اسے دنیا میں بھیجتا اور اپنا ایک سلسلہ قائم فرماتا ہے اسی طرح وہ اب بھی کرے گا اور اسلام کو دنیا میں قائم کر دے گا مگر پھر وہ سلسلہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قائم ہو گا آسمان پر اٹھنا شروع ہو گا ایک ایسے دن میں جو ہزار سال کے برابر ہو گا۔اس آیت میں تنزلِ اسلام کے ایک ہزار سالہ دَور کی خبر دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس دوران میں ایمان اور اسلام آسمان پر اٹھ جائے گا اور لوگوں میں بے دینی پھیل جائے گی۔پس ان پہلے معنوں کے رُو سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے اعتبار سے کئے گئے ہیں لَیْل سے مراد ایک سال کا عرصہ تھا مگر دوسرے معنوں کے رُو سے لَیْل سے مراد ایک صدی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اسلام پر دس تاریک راتیں آئیں گی جن میں سے ہررات ایک ایک سو سال کی ہو گی اور یہ سلسلہ برابر دس راتوں یعنی ایک ہزار سال تک چلتا چلا جائے گا۔دیکھو یہ کیسی لطیف مشابہت ہے کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تین سال کے بعد ظلم وتعدّی کا ایک دَور آیا جو دس سال تک چلتا چلا گیا اسی طرح یہاں تین صدیوں کے بعد ایک اسلامی تنزّل کے دَور کی خبر دی گئی اور بتایا گیا کہ وہ دَور دس صدیوں یعنی ایک ہزار سال تک چلا جائے گا اور چونکہ یہ دَور ۲۷۱ھ سال سے شروع ہوا ہے اس لئے ایک ہزار سال میں اگر ان ۲۷۱ھ سالوں کو ملایا جائے تو یہ ۱۲۷۱ سال بن جاتے ہیں یعنی قریباً تیرہ صدیاں۔پس تیرہ سو سال کے ایک زمانہ کا ذکر قرآن کریم سے ثابت ہو گیا جن میں سے ۲۷۱سال یا قریباً تین صدیاں اسلامی ترقی کی ہیں اور دس سو سال رات سے مشابہت رکھتے ہیں۔پھر جس طرح وہاں دس راتوں کے بعد ایک فجر کے طلوع کی بشارت دی گئی تھی اسی طرح قرآن کریم میں ان دس تاریک راتوں کے بعد جن میں سے ہر رات سو۱۰۰ سو۱۰۰ سال کی بتائی گئی ہے۔ایک فجر کے ظاہر ہونے کی بھی خبر دی گئی ہے اسی مضمون کی طرف سورۂ سبا کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ۠ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠(سبا:۲۹تا۳۱)