تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 195
کے دل مطمئن ہوئے کہ اب ہمارا آقا دشمن کے حملوں سے محفوظ ہو گیا ہے۔یہ ہجرت طلوع آفتاب کی ایک شعاع تھی جسے قرآن کریم میں فجر کے لفظ سے بیان کیا گیا تھا اور جو ظاہر کر رہی تھی کہ اب عنقریب کوئی آسمانی تغیّر ہونے والا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ان دس راتوں کی فجر کے بعد شفع اور وتر کا بھی کوئی واقعہ ہوا ہے یا نہیں۔اس غرض کے لئے جب ہم قرآن پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک شفع اور وتر کے واقعہ کا بھی اس میں ذکر پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ مدینہ کے کمزور مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا١ؕ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ(التوبۃ:۴۰) فرماتا ہے اگر تم ہمارے رسول کی مدد نہ کرو گے تو اس کا نقصان تمہیں خود ہی ہوگا۔ہمارا رسول تو ہماری حفاظت میں ہے اور ہم خود اس کی ہر موقع پر نصرت اور تائید کرنے والے ہیں کیا تمہیں اس واقعہ کا علم نہیں جب کافروں نے اسے مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور جب وہ اکیلا نہیں بلکہ اپنے ساتھ ایک اور شخص کو لے کر مکہ میں سے نکلا اور غار میں آ کر چھپ گیا اور جب اس نے دیکھا کہ میرا ساتھی گھبرا رہا ہے اس لئے نہیں کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچ جائے بلکہ اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو اس نے اسے تسلی دی اور کہا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا کہ غم مت کر ہم دو نہیں بلکہ ایک وتر بھی موجود ہے۔وتر کی تشریح بھی خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ اِنَّ اللہَ وِتْرٌ یُـحِبُّ الْوِتْرَ۔خدا تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو ہی پسند کرتا ہے(سنن الترمذی ابواب الوتر باب ماجآء اَنَّ الْوِتْرَ لَیْسَ بِـحَتْمٍ) پس شفع کون تھا؟ شفع محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور حضرت ابو بکرؓ تھے اور وتر کون تھا؟ وتر خدا تعالیٰ تھا جو ان دو کے ساتھ تھا۔غرض خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی تھی کہ اسلام اور مسلمانوں پر دس تاریک راتیں آئیں گی جن کے گذرنے پر ہم فجر کا طلوع کریں گے اور پھر اس فجر کے واقعہ کے ساتھ ہی ایک اور معجزہ دکھائیں گے جس کے ساتھ ایک شفع اور ایک وتر کا تعلق ہو گا یہ وہ معجزہ تھا جو غارِ ثور میں ظاہر ہوا اور جس نے وَيَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ کی صداقت کو آفتاب نـصف النہار کی طرح روشن کر دیا۔یہ امر بتایا جا چکا ہے کہ کفار نے ایک تدبیر یہ کی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر لیا جائے قتل کی تدبیر میں تو وہ ناکام ہو چکے تھے مگر جن لوگوں نے قید کا مشورہ دیا تھا