تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 194

مناسب وقت سمجھا تو اندر داخل ہوئے اور شاید انہیں جسم سے شک پڑ گیا کہ یہ جسم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا نہیں۔انہوں نے منہ پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھا یا شایدمنہ ننگا تھا۔بہرحال انہیں معلوم ہوا کہ سونے والے شخص حضرت علیؓ ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں۔تب انہیں معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلامتی کے ساتھ جا چکے ہیں اور ان کے لئے اب سوائے ناکامی کے کچھ باقی نہیں رہا۔غرض انہوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ کیا مگر معجزانہ طور پر انہیں ناکام و نامراد ہونا پڑا۔اس وقت یقیناً وہ لوگ جو کہتے تھے کہ انہیں قید کرو کہتے ہوں گے کہ ہم نہ کہتے تھے چوری قتل کا خیال چھوڑ دو باقاعدہ مکہ کی مجلس میں فیصلہ کر کے اسے قید کر دو یہ زیادہ اچھا ہے۔تم نے ہماری بات نہ مانی اور یہ نتیجہ دیکھا۔ضرور ہے کہ قتل کو ناپسند کرتے ہوئے اس کے کسی رشتہ دار نے انہیں خبر کر دی ہو گی اور وہ بچ نکلے۔کچھ اور لوگ کہتے ہوںگے ہم نے جو کہا تھا اسے جلاوطن کر دو، قتل کا منصوبہ نہ کرو، تم نے ہمارے مشورہ کو ردّ کیا اور یہ دن دیکھا کہ سارے قبائل کو شرمندہ اور ناکام ہونا پڑا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ۔وہ اگر یہ تدابیر کررہے تھے تو ہم بھی خاموش نہیں تھے ہم نے بھی فیصلہ کر دیا تھا کہ ایک ایک تدبیر میں ہم ان کفار کو ناکام کریں گے۔چنانچہ قتل کی تدبیر کر کے انہوں نے دیکھ لیا وہ ناکام ہوئے۔ان کی تدابیر سب باطل ثابت ہوئیں اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ غالب آیا۔یہ وہ فجر تھی جس کا دس تاریک راتوں کے بعد طلوع ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہجرت کی اجازت دے دی اور باوجود اس کے کہ کفار آپ کے دروازے پر قتل کے لئے کھڑے تھے آپ نے خدا تعالیٰ کی حفاظت میں مکہ کو چھوڑا اور مدینہ تشریف لے گئے اور یہ قتل کا منصوبہ آپ کو نقصان پہنچانے کی بجائے آپ کے لئے ایک معجزہ کے ظہور کا موجب ہوا۔یہ پہلی خبر تھی جس سے مسلمانوں کے دل خوش ہوئے ورنہ ان کے دل کفار کے مظالم کو دیکھ دیکھ کر ہر وقت دکھتے رہتے تھے اور بسا اوقات وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے عرض بھی کرتے کہ یا رسول اللہ آپ یہاں سے ہجرت کر کے کہیں اور تشریف لے جائیں۔مگر آپ یہی فرماتے کہ جب تک خدا تعالیٰ کا حکم نہ ملے میں اس بارہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا(صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہوسلم )۔لیکن کئی اور مسلمان ان راتوں کے مصائب سے تنگ آ کر مکہ چھوڑ کر چلے گئے بعض حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے اور بعض مدینہ منورہ میں چلے گئے اور گو ان کو حبشہ اور مدینہ میں آرام میسر آ گیا تھا اور کفار کے مظالم سے وہ بچ گئے تھے مگر ان کے دل ہروقت دُکھتے رہتے تھے کہ نہ معلوم ہمارا آقا کس حال میں ہو گا اور دشمن آپ سے کیا سلوک کر رہا ہوگا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ہجرت کی خبر ان کو پہنچی تو وہ پہلی رات آرام کی نیند سوئے اور ان