تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 186
منصوبے اجتماعی طور پر کفار نے شروع نہیں کئے تھے۔وہ انفرادی طور پر تو اذیت پہنچانے کی کوشش کرتے تھے مگر اکثر ایسے تھے جو اسلام کو مذاق میں اڑا دیتے تھے۔وہ مسلمانوں کو پاگل اور مجنون کہہ کر خاموش ہو جاتے اور سمجھتے کہ یہ چند سر پھرے لوگ ہیں انہوںنے ہمارا کیا بگاڑ لینا ہے خود ہی چند دنوں تک خاموش ہو جائیں گے۔عملی مخالفت جو انہوں نے بعد میں ایک تنظیم کے ماتحت کی اور جس میں مسلمانوں کو بڑے بڑے دکھ پہنچائے گئے وہ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔قریبًا تین سال رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دعویٰ نبوت پر گذر چکے تھے کہ اس وقت خدا تعالیٰ نے اس سورۃ کو نازل کیا اور مسلمانوں کو بتایا کہ اب تمہاری شدید ترین مخالفت ہونے والی ہے۔مصائب اور تکالیف کی بھیانک راتیں تم پر چھا جانے والی ہیں۔ایک کے بعد ایک رات آئے گی مگر کامیابی کی کوئی شعاع تمہیں نظر نہیں آئے گی اور یہ سلسلہ ممتد ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ پورے دس سال تمہیں ان مصائب اور مشکلات کا تختۂ مشق بننا پڑے گا۔اب غور کر لو یہ بات کس حیرت انگیز طور پر پوری ہوئی۔تیسرے سال کے آخر میں یہ سورۃ نازل ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں رہے ہیں۔پہلے تین سال مخالفت نہیں ہوئی لیکن اس کے بعد مکہ والوں نے شدید ترین مخالفت شروع کر دی۔تیرہ۱۳ میں سے تین۳ سال نکال دو تو باقی ٹھیک دس سال رہ جاتے ہیں جن میںمسلمان کفار کا تختۂ مشق بنے رہے اور یہی وہ دس سال تھے جن کی لَیَالٍ عَشْرٍ میں خبر دی گئی تھی اور جن کو مشکلات اور مصائب کے ہجوم کی وجہ سے استعارۃً رات قرار دیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے جو تمہیں عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ میں خبر دی تھی کہ اب یہ لوگ منظم مخالفت شروع کرنے والے ہیں وہ وقت اب آپہنچا ہے۔مصائب کا ایک شدید دَور تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر آنے والا ہے، تاریک ترین راتیں، انتہائی بھیانک راتیں، جسم کو کپکپا دینے والی راتیں، لرزہ بر اندام کر دینے والی راتیں، ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں، مسلسل دس راتیں آئیں گی اور تم کو اور تمہاری قوم کو سخت مصیبت دیکھنی پڑے گی مگر اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشتر اس کے کہ ہم ان تاریک راتوں کی خبر دیںپہلے ہی تمہیں یہ خوشخبری سنا دیتے ہیں کہ ان راتوں کے بعد فجر آنے والی ہے، بےشک مخالفت ہو گی اور شدید ہو گی مگر انجام بہرحال اچھا ہو گا۔اسلام پھیلے گا، مسلمان غالب آئیں گے، اور مشکلات کے بادل دس سال گذرنے کے بعد پھٹ جائیں گے اور فجر ظاہر ہو جائے گی۔چنانچہ ٹھیک چوتھے سال مکہ والوں نے اسلام اور مسلمانوں کی منظم مخالفت شروع کر دی اور مسلمانوں پر تاریک راتیں چھا گئیں۔