تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 15

سکے۔فرماتا ہے تمہاری یہ بات بھی غلط ہے کہ دنیا الہامِ الٰہی کو قبول کرنے کی استعداد اپنے اندر نہیں رکھتی۔تم زمین کی طرف دیکھو وہ کس طرح بنجر پڑی ہوتی ہے اور بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی روئیدگی کی قابلیت نہیں رہی مگر خدا نے اس کے اندر مخفی طور پر یہ قابلیت رکھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ پھٹ کر اپنے اندر سے قسم قسم کی سبزیاں وغیرہ پیدا کر دے چنانچہ جب بارش ہوتی ہے تو ناممکن نظر آنے والی بات بھی ممکن ہو جاتی ہے اور جہاں کسی قسم کے سبزہ کا امکان نظر نہیں آتا وہاں بھی سبزہ پیدا ہو جاتا ہے صَدْعٌ کے معنے لغت میں شَقٌّ کے بھی ہیں۔اور ذَاتُ الصَّدْعِ کے معنے ذَاتُ النَّبَاتِ کے بھی ہیں۔پس ذَاتُ الصَّدْعِ کے معنے ہیں نبات والی زمین یا چھٹ کر روئیدگی پیدا کرنے والی چیز۔فرماتا ہے یہ ایک دوسرا نظام ہے جو ہماری طرف سے دنیا میں جاری ہے ایک طرف بار بار زمین پر بادل برستا ہے اور دوسری طرف زمین میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ بار بار سبزیاں وغیرہ پیدا کرے۔اسی طرح انسانی قابلیتیں گو تمہیں مردہ دکھائی دیتی ہیں مگر الہامِ الٰہی کی بارش کے بعد انہی مردہ قلوب میں سے کئی قسم کی سبزیاں اور روئیدگیاں پیدا ہونی شروع ہو جائیں گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جیسے بعض زمینیں شور ہوتی ہیں اسی طرح انسانوں میں سے بھی بعض شور ہوتے ہیں مگر الہامِ الٰہی کی بارش کے بعد اکثر لوگ ایسے نکلتے ہیں جو جلد یا بدیر مامورِ وقت کو قبول کر لیتے ہیں۔اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ۰۰۱۴وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ۰۰۱۵ (اس امر پر کہ) وہ یعنی قرآن یقیناً قطعی اور آخری بات ہے۔اور وہ کوئی (بے فائدہ اور) کمزور کلام نہیں۔حلّ لُغات۔فَصْلٌ۔فَصْلٌ فَصَلَ کا مصدر ہے اور فَصَلَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں۔قَطَعَہٗ وَاَبَانَہٗ کسی چیز کو کاٹا اور دوسرے سے علیحدہ کر دیا۔نیز اَلْفَصْلُ کے معنی ہیں اَلْـحَقُّ مِنَ الْقَوْلِ پکی بات۔اَلْقَضَاءُ بَیْنَ الْـحَقِّ وَالْبَاطِلِ۔حق و باطل میں فرق اور فیصلہ کرنے والی چیز۔کہتے ہیں قَوْلٌ فَصْلٌ اور معنے یہ ہوتے ہیں حَقٌّ لَیْسَ بِبَاطِلٍ کہ یہ بات درست ہے باطل نہیں (اقرب) اَلْھَزْلُ۔اَلْھَزْلُ۔ھَزَلَ کا مصدر ہے اور ھَزَلَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں۔صَارَ مَھْزُوْلًا کمزور ہو گیا۔اور جب ھَزَلَ فُلَانٌ فِیْ کَلَامِہٖ کہیں تو معنے ہوں گے مَزَحَ وَھَذٰی ہنسی اور تمسخر اختیار کیا اور سنجیدگی کو چھوڑ دیا (اقرب)