تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 185

آرہی ہے اس سے یہ نہ سمجھنا کہ آخری نتیجہ تمہارے حق میں خراب نکلے گا۔آخری نتیجہ بہرحال اچھا ہو گا اور اس کو ہم ان راتوں کے ذکر سے پہلے ہی بیان کر دیتے ہیں تا کہ تمہارے دل مطمئن رہیں اور اس خبر سے پریشان نہ ہوں۔پس یہاں رات کا لفظ حقیقی معنوںمیں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ استعارۃً استعمال کیا گیا ہے کیونکہ کوئی ظاہری دس راتیں ایسی نہیں ہوتیں جن کی ایک فجر ہو ہاں استعارۃً دس راتوں کی ایک فجر ہو سکتی ہے۔بہرحال یہ چار واقعات ہیں جن کا سورۃ الفجر کی ان چار آیات میں ذکر آتا ہے۔پہلے یہ خبر دی گئی ہے کہ دس راتیں آئیں گی پھر یہ خبر دی گئی ہے کہ ان دس راتوں کے بعد فجر آئے گی پھر یہ خبر دی گئی ہے کہ ایک شفع اور وتر کا واقعہ ہو گا اور پھر یہ خبر دی گئی ہے کہ ایک رات ہے جو چلی جائے گی۔ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ کون سے واقعات ہیں جن کا ان آیات میں ذکر آتا ہے۔اگر ہم قیاسات سے کام لیں اور محض عقلی ڈھکونسلوں تک اپنے آپ کو محدود رکھیں تو یقیناً ہم کسی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے اور ہم اسی رو میں بہتے چلے جائیں گے جس رو میں سابق مفسرین بہہ گئے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان واقعات کو قرآن کریم سے ثابت کریں۔ہم ان واقعات کو اسلامی تاریخ سے ثابت کریں۔ہم ان واقعات کو مہتم بالشان واقعات سے ثابت کریں اور ہم علیٰ وجہ البصیرت اس بات کو بیان کر سکیں کہ یہ وہ واقعات ہیں جن کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے، جو اسلام کی سچائی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، جن میں قرآنی ترتیب پوری طرح پائی جاتی ہے اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے لئے بطور ثبوت اور حجت کفار کے سامنے پیش کئے جا سکتے ہیں۔اگر ایسے واقعات ہمیں قرآن کریم سے مل جائیں، اسلامی تاریخ سے مل جائیں، ترتیب آیات پر وہ پورے اتریں اور پھر اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کا بھی زندہ ثبوت ہوں تو یقیناً انہی واقعات کی طرف ان آیات میں اشارہ سمجھا جائے گا۔میں نے اس سورۃ پر سوچا اور سوچا مگر آخر معاً بطور القا اس کا حل مجھے ملا۔سورۂ فجر میں دس راتوں سے مراد مسلمانوں کی مخالفت کے دس سال میں یہ بتا چکا ہوں کہ دس راتوں کا ذکر محلًّا پہلے ہے گو ذکراً دوسرے نمبر پر ہے اور میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ یہ دس راتیں عام راتیں نہیں بلکہ استعارۃً ان کو راتیں کہا گیا ہے۔پھر میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ یہ سورۃ تیسرے سال کے آخر میں نازل ہوئی ہے جب ابھی منظم مخالفت اسلام کی شروع نہیں ہوئی تھی۔جب ابھی مسلمانوں کو کچلنے اور ان کو تباہ وبرباد کرنے کے