تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 179

کے سامنے بطور حجت پیش کیا جا سکتا ہے۔آج بھی جب یہ واقعہ کسی کے سامنے بیان کیا جائے گا خدا تعالیٰ کی ہستی کا ایک زندہ ثبوت اسے نظر آنے لگ جائے گا۔بے شک حضرت موسیٰ فوت ہو گئے فلسطین پر جو حکومت قابض تھی وہ جاتی رہی۔مگر باوجود اس کے آج بھی جب کسی ہندو یا سکھ کے سامنے ان واقعات کو پیش کیا جائے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ کہے گا خواہ موسٰی مر گئے۔فلسطین سے یہود کی حکومت مٹ گئی مگر اس کے باوجود یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور تاریخ اس کی سچائی پر شاہد ہے کہ موسٰی نہایت ادنیٰ اور کمزور حالت میں تھے۔بنی اسرائیل کی فرعون کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں تھی وہ جس طرح چاہتا ان سے سلوک کرتا۔ایسی کمزور اور ذلیل حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسٰی سے وعدہ کیا کہ میں تجھے کامیاب کروں گا۔واقعات ان کی کامیابی کے خلاف تھے مگر خدا نے اپنے وعدہ کو پورا کیا۔فرعون اپنی ساری طاقت اور اپنے سارے لشکر اور اپنے سارے سازوسامان کے باوجود ناکام ہوا۔ناکام و نامراد ہونے کی حالت میں مرا اور موسٰی اپنے ساتھیوں سمیت خدا تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق کامیاب ہو گیا۔یہ واقعہ خواہ ماضی کا ہے مگر تاریخی شہادت اس ماضی کو ایسا شاندار بنا دیتی ہے کہ آج بھی اس واقعہ کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نقشہ انسانی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔اسی طرح ابراہیمؑ فوت ہو چکے جو پیشگوئیاں انہوں نے کی تھیں وہ قصۂ ماضی بن چکیں مگر اس کے باوجود اس ماضی کا بھی ایک ماضی تاریخ میں محفوظ ہے جب ہم اس گذشتہ ماضی میں جا کر اس واقعہ کو مستقبل کی نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمیں خدا تعالیٰ کا یہ ایک حیرت انگیز اور عجیب نشان نظر آتا ہے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو زمانۂ حاضر میں کھڑے ہو کر نہیں دیکھتے بلکہ ابراہیم ؑ کے وقت کی تاریخ میں دیکھتے ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ کیا اس قسم کی پیشگوئی کرنا ابراہیمؑ کے لئے ممکن تھا اس وقت جب ہم تاریخ کی نلکی میں سے جھانکتے ہوئے ابراہیمؑ کے زمانہ تک پہنچتے ہیں۔جب ہم ماضی سے مستقبل کی طرف نگاہ دوڑاتے ہیں توہمیں یہ ایک زبردست پیشگوئی نظر آتی ہے اور ہمارا دل اس یقین سے پُر ہو جاتا ہے کہ یہ خدا کا ایک زندہ نشان ہے جو ابراہیم کے ذریعہ ظاہر ہوا۔تو بعض ماضی بھی خدا تعالیٰ کی قدرت کا ثبوت ہوتے ہیں کیونکہ اس ماضی کا بھی ایک ماضی تھا جب ہم گذشتہ ماضی میں کھڑے ہو کر مستقبل کو دیکھتے ہیں تو یہ ماضی ہمارے لئے ایک نشان بن جاتا ہے اور مستقبل تو ظاہر ہی ہے۔جب ایک پیشگوئی پوری ہو جاتی ہے تو وہ ایک زندہ ثبوت ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور اس کے جلال اور اس کی عظمت کا۔مگر رمضان کے روزوں کی جو ابھی نازل نہیں ہوئے تھے قسم کھانے سے ان فوائد میں سے جو قرآنی قسموں میں ہیں ایک فائدہ بھی پایا نہیں جاتا۔اس اصولی سوال کو نظرانداز کر دو تو پھر بھی سوال ہے کہ رمضان کی پہلی راتوں میں سے فجر کس امر کی شہادت