تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 178
کہ اسے دشمن کے سامنے پیش کیا جائے۔پس یہ بات یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتی کہ جس طرح آئندہ زمانہ میں ہونے والے واقعات کی قرآن کریم نے قسم کھائی ہے اسی طرح رمضان کی کھائی ہے قرآن کریم میں قسم ان واقعات کی کھائی گئی ہے جن سے علم غیب وابستہ تھا مثلاً سورج گرہن، عوام کی بیداری، بادشاہتوں کی تباہی، ان امور کے متعلق قبل ازوقت خبر یقیناً خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک زبردست ثبوت ہے مگر رمضان کے روزے تو علمِ غیب اپنے اندر نہیں رکھتے ہر شخص اپنی جماعت کو ایک حکم دے سکتا ہے اور ایسا حکم اس کی سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔کفار کے نزدیک وہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل تھا اور عبادت کے طور پر اس کی خبر مکہ والوں کو پہلے دینے میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔غرض خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے نشان کے طور پر وہی بات پیش کی جا سکتی ہے جو علمِ غیب اپنے اندر رکھتی ہو۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے زلزلۃ الساعۃ کی خبر دی(تذکرۃصفحہ ۴۵۰)۔اب یہ ایسی خبر ہے جس کو پورا کرنا کسی انسان کے اختیار کی بات نہیں۔اس خبر کو اگر خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت کا ثبوت قرار دیا جائے تو یہ بالکل درست ہو گا۔لیکن احکام کی قسم کھانے سے اس کی قدرت کا کچھ بھی اظہار نہیں ہوتا پس رمضان کی راتوں کی قسم چونکہ اپنے اندر کوئی علمِ غیب یا ایسا اظہارِ قدرت اپنے اندر نہیں رکھتی جیسے کہ مثلاً وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ۔وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ(التین:۲،۳) کی قسمیں رکھتی ہیں کہ ہیں تو ماضی کے امور۔آئندہ کا علم غیب ان میں نہیں مگر ماضی کے علمِ غیب کے ظہور کا ثبوت ان میں موجود ہے جس کا دشمن انکار نہیں کر سکتا۔یا مثلاً اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ۔وَاِذَاالنُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ۔وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۔وغیرہ پیشگوئیاں ہیں کہ یہ سب کی سب اپنے اندر علمِ غیب رکھتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی قدرت کا ثبوت ہیں اس لئے وہ قسم فضول ہے اور قرآن کریم ایسی فضول قسموں سے بالا ہے۔غرض لَیَالٍ عَشْرٍ میں واقعہ ابراہیمی کی طرف اشارہ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات کی طرف تو ایک معقول بات بن سکتی ہے۔لیکن رمضان کی پہلی یا پچھلی راتوں کا ذکر ان آیات سے نکالنا اپنے اندر کوئی حکمت کی بات نہیں رکھتا۔غیب کی خبریں خواہ ماضی میں پوری ہو چکی ہوں یا آئندہ پیدا ہونے والی ہوں بے شک ایمان افزا ہوتی ہیں مثلاً خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کیا کہ میں تجھے اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ دوں گا (خروج باب ۷ آیت ۱تا۷) اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کو پورا کر کے فرعون کو غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو اس کے مظالم سے نجات دی۔اب گو یہ زمانۂ ماضی کا ایک واقعہ ہے مگر تاریخ میں یہ واقعہ محفوظ ہے اور اسے دشمن