تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 177

میں جہاں جہاں بھی قسم کھائی گئی ہے وہاں ایسے ہی واقعات کے متعلق قسم کھائی گئی ہے جو آئندہ زمانوں میں رونما ہونے والے تھے اور جن پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کی اُمت کو نہ کوئی اختیار حاصل تھانہ اختیار حاصل ہونا ممکن ہو سکتا تھا اور جو خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور اس کے علم کا ایک زبردست نشان تھے مثلاً یہ کہا گیا کہ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ۔ایک زمانہ آئے گا جب سورج اور چاند کو گرہن لگے گا۔اب بتاؤ کہ کیا سورج اور چاند کو گرہن لگانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت میں تھا؟یا اِذَاالنُّفُوْسُ زُوِّجَتْ میں جب ریل اور تار اور ڈاک کی ایجاد کی خبر دی گئی تھی تو کیا ان چیزوں کی ایجاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اختیار میں تھی؟ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ خبریں ایسی تھیں جن کو پورا کرنا کسی انسانی طاقت کا کام نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو پورا کر سکتا تھا اسی لئے ان واقعات کو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔غرض قسمیں انہی امور کے متعلق کھائی جاتی ہیں جو مستقبل سے تعلق رکھنے والے ہوں یا ہوں تو زمانۂ ماضی کے مگر ان سے اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس کی قدرت کا اظہار ہوتا ہو۔زمانۂ حال کے ایک مفسر نے لکھا ہے کہ رمضان کی آخری دس راتوں کو بطور شہادت اس لئے پیش کیا گیا ہے کہ ان میں روزے رکھ کر انسان کے تقویٰ اور اس کی روحانیت میں خاص طور پر ترقی ہوتی ہے(بیان القرآن مولوی محمدعلی صاحب سورۃ الفجر)۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا کافر بھی یہ مانتا ہے کہ روزہ سے تقویٰ بڑھتا ہے یا روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے ؟ وہ دس روزوں کا ہی نہیں بلکہ سارے روزوں کا بھی یہ نتیجہ تسلیم نہیں کرتا۔سارے کیا اگر کوئی شخص پچاس سال بھی متواتر روزے رکھتا چلا جائے تو وہ یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ ان روزوں سے اس کی روحانیت میں اضافہ ہوا ہو گا۔پس جس بات کو وہ مانتا ہی نہیں اسے بطور شہادت اس کے سامنے کس طرح پیش کیا جاسکتا ہے؟وہ تو یہی کہے گا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے روزوں سے روحانیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔پس قسمیں انہی واقعات کے متعلق کھائی جا سکتی ہیں جو مستقبل سے تعلق رکھتے ہوں اور جن سے اللہ تعالیٰ کی ایسی قدرت کا اظہار ہوتا ہو جو دشمنانِ دین کے لئے حجت ہو سکے اور یا پھر ان واقعات پر قسمیں کھائی جاتی ہیں جو گو زمانۂ ماضی سے تعلق رکھتے ہوں مگر اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت کا نشان ان سے ظاہر ہو چکا ہو۔مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی۔آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اللہ تعالیٰ کا ان وعدوں کو پورا کرنا یہ سب زمانۂ ماضی سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں مگر چونکہ تاریخی طور پر یہ باتیں ثابت ہیں دشمن ان کا انکار نہیں کر سکتا۔اس لئے انہیں دشمن کے سامنے بطور حجت پیش کیا جا سکتا ہے لیکن روحانی ترقی تو ایک ایسی چیز ہے جو دوست کو بھی نظر نہیں آتی کجا یہ