تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 14

کو بھی سَـمَاء کہتے ہیں جو قبہ عظیمہ کی طرح زمین کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔اور اس میں سورج چاند اور ستارے ہیں۔نیز ہر وہ چیز جو اونچی ہو اور سایہ کرے اس کو بھی سَـمَاء کہتے ہیں اور بادلوں کو بھی سَـمَاء کہتے ہیں اور بعض اوقات بارش کو بھی سَـمَاء کہہ دیتے ہیں (اقرب) رَجْعٌ۔رَجْعٌ کے معنے ہیں اَلْمَطَرُ بَعْدَ الْمَطَرِ یعنی وہ بارش جو لَوٹ لَوٹ کر آتی ہے (اقرب)اور اَلصَّدْعُ کے معنے ہیں۔اَلشَّقُّ فِیْ شَیْءٍ صُلْبٍ کسی سخت چیز میں اس کے پھٹنے کا نشان۔اسی طرح صَدْعٌ: نَبَاتُ الْاَرْضِ یعنی زمین کی روئیدگی کو بھی کہتے ہیں (اقرب) پس ذَاتُ الرَّجْعِ کے معنے ہوں گے بار بار برسنے والا بادل اور ذَاتُ الصَّدْعِ کے معنے ہوں گے پھٹنے والی چیز یا نباتات والی۔تفسیر۔وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ میں سَـمَاء سے مراد فرماتا ہے ہم تمہارے سامنے آسمان کو پیش کرتے جو ذَاتُ الرَّجْعِ ہے۔یہاں سَـمَاء کے معنے بدل گئے ہیں جس طرح اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ کا اور مفہوم تھا اور اِذَاالسَّمَآءُ انْفَطَرَتْ کا اور۔اسی طرح یہاں سَـمَاء کے معنے اور ہو گئے ہیں سَـمَاء کا لفظ ایک تو افلاک کے لئے استعمال ہوتا ہے دوسرے اس کے معنے بادل کے بھی ہیں۔اس جگہ سَـمَاء بادل کے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہارے سامنے شہادت کے طور پر اس بادل کو پیش کرتے ہیں جو ذَاتِ الرَّجْعِ ہے۔رَجْعٌ کے معنے جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس باد ل کے ہوتے ہیں جو بار بار برستا ہے فرماتا ہے کیا تم بادلوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ بار بار زمین پر برستے ہیں اگر بادلوں سے پانی نہ اترے اور اگر وہ بار بار زمین پر آکر نہ برسیں تو زمین کی ترقی بالکل رک جائے بادلوں کا پانی ہی ہے جو زمین کے نشوونما اور اس کی اندرونی قابلیتوں کو ابھارنے کا باعث بنتا ہے پہلے فرمایا تھا اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو پھر ترقی دینے پر قادر ہے اور یہاں فرمایا ہے وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ بادل کو ہم بطور شہادت پیش کرتے ہیں جو بار بار برستا ہے یعنی جس طرح وہ بار بار برس کر زمین کو زندہ کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بار بار نازل ہو کر دنیا کو روحانی زندگی بخشتا ہے۔اسی طرح بادلوں کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ بادل آتے اور بار بار برستے ہیں اگر بادل نہ برسیں تو دنیا تباہ ہو جائے۔یہی حال روحانی زندگی کا ہوتا ہے اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ لوگ کھڑے نہ ہوں جو دنیا کی اصلاح کے لئے مامور ہوتے ہیں اور الہامِ الٰہی کا پانی زمین پر نہ اترے تو لوگوں کو روحانی زندگی کبھی حاصل نہ ہو سکے۔وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ پھر تم کہتے ہو کہ خدا نے الہام تو بھیج دیا مگر دنیا اس قابل نہیں کہ وہ اس الہام کو مان