تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 164

فَمَنْ تَعَجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ ہے اور وتر سے مراد وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْہِ ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘) یعنی قرآن کریم میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ جب تم حج کر چکو تو چاہے دو دن ٹھہر کر آ جاؤ یا تین دن۔اس میں دو دن ٹھہر کر آنا شفع ہوا۔اور یہ جو فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص تیسرے دن بھی ٹھہرنا چاہے تو اسے اجازت ہے یہ تیسرا دن وتر ہے۔ابن جریر نے بھی یہ روایت حضرت عبداللہ بن زبیر سے نقل کی ہے۔بخاری اور مسلم میں روایت ہے کہ ابوھریرہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ننانو۹۹ے نام ہیں یعنی سو میں سے ایک کم جو شخص ان کو خوب گن رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا اور اللہ وتر ہے وتر کو پسند کرتا ہے (صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء والتوبۃ و الاستغفار باب فی اسماء اللہ تعالیٰ و فضل من احصاھا) یعنی اللہ تعالیٰ بھی ایک ہے اور اس نے اپنے نام بھی ننانوے ہی رکھے ہیں اس حدیث کا اصل مطلب یہ ہے کہ صفاتِ الٰہیہ کا گہرا مطالعہ انسان کو حقیقی متقی بناتا ہے تقویٰ کے معنے بھی یہی ہوتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کر لے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ساری صفات کو اپنے مدنظر رکھے گا وہ کسی خوبی کو نظر اندا ز نہیں کر سکتا اور جو شخص ہر خوبی کو اپنے سامنے رکھے گا اور ہر نیکی پر عمل کرے گا اس کے یقینی جنتی ہونے میں شبہ ہی کیا ہو سکتا ہے۔حسن بصری اور زید بن اسلم کہتے ہیں کہ تمام مخلوق یا شفع ہے یا وتر۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں مخلوق کی قسم کھائی ہے(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘)۔مجاہد سے بھی یہی مروی ہے اور وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ شفع اور وتر سے مخلوق مراد ہے کیونکہ کوئی جوڑا ہوتا ہے اور کوئی اکیلا۔ابن عباسؓ سے عوفی نے روایت کی ہے کہ اللہ وتر ہے اور تم لوگ شفع ہو کیونکہ تم نر ومادہ ہوتے ہو اور خدا اکیلا ہے اس لئے تم تو شفع ہو اور خدا وتر ہے بعض نے کہا ہے کہ شفع سے مراد صبح کی نماز ہے اور وتر سے مراد شام کی نماز (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘)۔ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ شفع سے مراد جوڑا ہے اور وتر اللہ تعالیٰ ہے(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘) یعنی یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى۔مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى (النجم:۴۶،۴۷) اسی کی طرف شفع میں اشارہ کیا گیا ہے۔ابو عبداللہ مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ وتر ہے اور مخلوق شفع ہے کیونکہ وہ ذکر وانثیٰ ہوتی ہے۔(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘) ابن ابی نجیع مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے جوڑا ہے اور اس سے آپ نے اس آیت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (الذاریات:۵۰) چونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر مخلوق کو جوڑے کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے اس لئے