تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 163

روایت محمد بن رافع اور عبدۃ بن عبداللہ سے نقل کی ہے جن دونوں نے زید بن الحباب سے سنا ہے۔یہ وہی راوی ہیں جن سے براہ راست امام احمد نے روایت کی ہے۔ابن جریر اور ابن ابی حاتم کی روایات بھی زید بن الحباب تک پہنچتی ہیں (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَ لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) گویا چاروں کتب احادیث میں زید بن الحباب کی طرف یہ روایت منسوب ہے گویا نیچے کے راوی خواہ مختلف ہوں زید بن الحباب پر پہنچ کر روایت کا سلسلہ ایک ہو جاتا ہے اس لئے یہ روایت احاد میں سے ہے۔ابن کثیر جو حدیث کے بہت بڑے عالم ہیں وہ اس روایت کو درج کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس حدیث کو مرفوع قرار دینے میں مجھے شبہ ہے یعنی اس روایت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تک پہنچانا یقینی معلوم نہیں ہوتا۔شفع اور وتر ابن عباس کا قول ہے کہ وتر یومِ عرفہ ہے یعنی ذوالحجہ کا نواں دن جو حج کا دن ہے اور طاق ہے اور شفع یوم النحر ہے یعنی قر بانی کا دن جو دسواں ہے اور جفت ہے۔عکرمہ اور ضحاک کا بھی یہی قول ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘) اور ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ واصل بن سائب کہتے ہیں میں نے عطا سے پوچھا کیا شفع والوتر سے مراد ہماری نماز وتر ہے؟ انہوں نے کہا وتر کی نماز مراد نہیں بلکہ شفع سے مراد یوم العرفہ ہے (مگر وہ نواں اور طاق ہے نہ کہ جفت) اور وتر سے مراد یوم الاضحیہ کی رات ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ‘‘) اور یہ رات دسویں اور جفت ہے نہ کہ طاق۔معلوم ہوتا ہے کہ راوی سے اس میں غلطی ہو گئی ہے یا ابن کثیر سے نقل کرتے ہوئے غلطی ہو ئی ہے۔ابن ابی حاتم روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن عامر بن ابراہیم الاصبہانی نے روایت کی انہوں نے اپنے باپ ابراہیم الاصبہانی سے روایت کی انہوں نے النعمان یعنی ابن عبدالسلام سے روایت کی کہ ان سے مکہ میں سعید بن عوف نے روایت کی میں نے ایک دفعہ عبداللہ بن زبیر کو تقریر کرتے سنا (آپ کے ایام خلافت میں مکہ مکرمہ کے مقام پر) تقریر کے دوران میں ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا اے امیر المومنین (یزید کے وقت میں حضرت عبد اللہ بن زبیر نے اس کی بیعت سے انکار کر دیا تھا اور مکہ میں اپنی خلافت کا اعلان کر دیا تھا یہ اس وقت کی بات ہے عبداللہ بن زبیر حضرت ابو بکر کے نواسے اور حضرت زبیر بن العوام کے فرزند تھے) شفع اور وتر کے متعلق مجھے کچھ سمجھائیے۔حضرت عبداللہ بن زبیر نے جو علاوہ صحابی ہونے کے بہت عبادت گذار بزرگ تھے اور بہت سے لوگوں نے ان کو پہلا مجدّد قرار دیا ہے اور بعض نے مہدی۔انہوں نے جواب میں فرمایا شفع سے مراد