تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 162

مراد ذوالحجہ کی راتیں ہیں عید سے پہلے کی۔عبداللہ بن زبیرؓ، مجاہد اور کئی علماء سلف نے یہی بات کہی ہے۔اسی طرح بہت سے بعد کے علماء کا بھی یہی قول ہے۔ترمذی میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ مَا مِنْ اَیَّامٍ اَلْعَمَلُ الصَّالِـحُ فِیْـھِنَّ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰـــذِہِ الْاَیَّـامِ الْعَشْـرِ (یعنی ذی الحجہ) ( جامع ترمذی ابواب الصوم باب ما جاء فی العمل فی ایّام العشـر) یعنی عمل صالح کے لحاظ سے یوں تو جس دن بھی کوئی شخص نیکی کرے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کر سکتا ہے مگر وہ ایام جن میں نیکی کی خاص طور پر قدر کی جاتی ہے اور جن میں عمل صالح کرنا اللہ تعالیٰ کو خاص طور پر پسند آتا ہے ان میں سے کوئی بھی دن اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب نہیں جتنا ان دس دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ میں نیک اعمال بجا لانا اس کو پسند ہے۔قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ وَلَا الْـجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ؟ فَقَالَ وَلَا الْـجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ۔لوگوں نے کہا کہ کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی ان دنوں کے اعمال سے اچھا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی ان دنوں کے اعمال سے زیادہ اچھا نہیں۔اِلَّارَجُلًا خَرَجَ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذَالِکَ بِشَیْءٍ (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَ لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) سوائے اس کے کہ کوئی شخص اپنی جان اور اپنا مال لے کر خد ا تعالیٰ کی راہ میں نکلے اور پھر مارا بھی جائے اور اس کا سارا مال بھی ضائع ہو جائے اس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ایسا نیک عمل کیا جو ان ایام کے اعمال صالحہ کے برابر ہے ورنہ اور کوئی عمل ان دس ایام کے اعمال کے برابر نہیں ہو سکتا۔ابو جعفر ابن جریر کہتے ہیں کہ دس راتوں سے مراد محرم کی پہلی راتیں ہیں۔(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَ لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) ابو ظبیان حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے مراد رمضان کی پہلی دس راتیں ہیں (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَ لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) گویا لَیَالٍ عَشْرٍ کے متعلق تین خیالات پائے جاتے ہیں۔۱۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ذوالحجہ کی عید سے پہلے کی دس راتیں ہیں۔۲۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد محرم کی پہلی دس راتیں ہیں۔۳۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد رمضان کی پہلی دس راتیں ہیں۔ابن الزبیر جابرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا کہ دس سے مراد قربانی کے مہینہ کی دس راتیں ہیں (گویا یہ روایت انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی کہ لَیَالٍ عَشْرٍ سے ذوالحجہ کی دس راتیں مراد ہیں) اور وتر یومِ عرفہ ہے۔(کیونکہ وہ نویں دن ہوتا ہے) اور شفع یومِ نحر ہے یعنی عید کا دن(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَ لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) یہ روایت امام احمد سے ابن کثیر نے نقل کی ہے۔نسائی نے بھی یہ