تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 149
فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ۰۰۲۴ اس کے نتیجہ میں اللہ اسے سب سے بڑا عذاب دے گا۔تفسیر۔تولّی اور کفر کرنے والوں کو بہت بڑا عذاب دیئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک بڑی ہدایت کا انکار کیا۔سزا ہمیشہ جرم کے مطابق دی جاتی ہے معمول قصور ہو تو معمولی سزا دی جاتی ہے اور زیادہ قصور ہو تو زیادہ سزا دی جاتی ہے۔ان کا جرم چونکہ معمولی نہیں ہو گا اس لئے انہیں سزا بھی غیر معمولی دی جائے گی کیونکہ انہوں نے اس رسول کا انکار کیا جو تمام رسولوں سے بڑا تھا اور جس کی شریعت تمام شریعتوں سے بڑی تھی۔اِنَّ اِلَيْنَاۤ اِيَابَهُمْۙ۰۰۲۶ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْؒ۰۰۲۷ یقیناً انہیں ہماری ہی طرف لوٹنا ہے پھر ان سے حساب لینا بھی یقیناً ہمارا ہی کام ہے۔حلّ لُغات۔اِیَابٌ۔اِیَابٌ: اٰبَ کا مصدر ہے اور اٰبَ کے معنے ہیں۔لوٹا (اقرب) پس اِیَابٌ کے معنے ہوں گے۔لوٹنا۔تفسیر۔اس آیت سے اس مضمون کو ختم کیا گیا ہے جو سورۃ الاعلیٰ سے شروع کیا گیا تھا اور بتایا گیا ہے کہ مومن و کافر اپنے اپنے کام پورے کر کے مومن تسبیح کو بلند کر کے اور کافر کفر کی اشاعت کر کے آخر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور دنیوی نتائج دیکھ کر اخروی نتائج دیکھنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوں گے۔سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ دونوں کے متعلق یہ امر بتایا جا چکا ہے کہ ان کا آپس میںگہرا ربط ہے اس کا ایک ثبوت اس امر سے بھی ملتا ہے کہ احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى پڑھتے تو فرماتے سُـبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی اور جب سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کرتے کرتے اِنَّ اِلَيْنَاۤ اِيَابَهُمْ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ پر پہنچتے تو فرماتے اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْـرًا۔(مـسـنـد احـمـد بـن حـنـبـل و مسند ابن عباسؓ و مسند عائشۃ ؓ ) ایک سورۃ کے شروع میں ایک فقرہ کا دہرانا اور دوسری سورۃ کے آخر میں دوسرے فقرے کا دہرانا صاف طور پر بتا رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے نزدیک یہ دونوں سورتیں