تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 139

یہ ایک ایسی خوبی اور ایسا کمال ہے جس پر ہر قوم کو رشک کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اسی خوبی کا اللہ تعالیٰ نے زیر تفسیر آیت میں ذکر کیا ہے اور بتایا ہے مسلمانوں میں یہ نہیں ہو گا کہ ایک شخص گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھا ہوا ہو اور باقی لوگ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں بلکہ تمام افراد کو عزت حاصل ہو گی، تمام افراد کو وجاہت حاصل ہو گی، تمام افراد کو عظمت حاصل ہو گی اور تکیے سب کے پیچھے ہوں گے کسی ایک فرد کے پیچھے بڑا سا تکیہ نہیں رکھا ہو گا۔وَّ زَرَابِيُّ مَبْثُوْثَةٌؕ۰۰۱۷ اور فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔حلّ لُغات۔زَرَابِیُّ۔زَرَابِیُّ کے معنے نَمَارِقُ کے بھی ہوتے ہیں اور فرش کے بھی۔زَرَابِیُّ کا واحد زِرْبِیٌّ بھی ہوتا ہے اور زَرْبِیَّۃٌ بھی (اقرب) مَبْثُوْثَۃٌ: بَثَّ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے اور بَثَّ کے معنے ہیں کسی چیز کو پھیلایا (مفردات) اور مَبْثُوْثَۃٌ کے معنے ہوں گے پھیلائے ہوئے۔تفسیر۔زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہر ملک میں عزت بخشے گا اور ہر قوم کے لوگ ان کو اپنی آنکھوں پر بٹھائیں گے۔نَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ کے معنے تو یہ تھے کہ ان کے ہر فرد کو عزت کے مقام پر بٹھایا جائے گا یعنی ساری کی ساری قوم معزز ہو گی یہ نہیں ہو گا کہ کوئی ایک فرد معزز ہو اور باقی لوگ ذلیل ہوں بلکہ ہر ایک کے پیچھے تکیہ لگا ہوا ہو گا۔اب زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ میں یہ بتاتا ہے کہ ان کی دنیا کے کونہ کونہ اور زمین کے گوشہ گوشہ میں عزت کی جائے گی زَرْبِیَّۃٌ کے معنے جیسا کہ بتائے جا چکے ہیں فرش کے ہوتے ہیں پس زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ کے یہ معنے ہوں گے کہ مسلمانوں کے لئے ہر جگہ فرش بچھے ہوئے ہوں گے دنیا کے ہر کونہ میں وہ معزز ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہر جگہ عزت دے گا اور ہر مقام پر ان کی وجاہت کا لوگوں پر اثر پڑے گا۔یہی وجہ ہے کہ نَمَارِقُ کے لئے مَصْفُوْفَۃٌ کا لفظ استعمال کیا تھا اور زَرَابِیُّ کے لئے مَبْثُوْثَۃٌ کا لفظ استعمال کیا ہے۔مَصْفُوْفَۃٌ کے معنے ہوتے ہیں صف میں رکھے ہوئے اور مَصْفُوْفَۃٌ کہنے سے مطلب یہ تھا کہ جب مسلمان مجالس میں حاضر ہوں گے سب کے سب عزت کے مقام پر بیٹھیں گے ان میں سے کوئی ذلیل نہ ہو گا۔لیکن زَرَابِیُّ میں کسی خاص مجلس کا ذکر نہیں