تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 137

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ۰۰۱۵ اور آب خورے دھرے ہوں گے۔حلّ لُغات۔اَکْوَابٌ۔اَکْوَابٌ: آب خوروں کو کہتے ہیں (اقرب) اور مَوْضُوْعَۃٌ۔مَوْضُوْعَۃٌ وَضَعَ سے ہے جس کے معنے رکھنے کے ہوتے ہیں لیکن اس میں اور حَطَّ میں فرق ہے حَطَّ کے معنے محض رکھنے کے ہوتے ہیں اور وَضَعَ کے معنے مناسب طور پر رکھنے کے ہوتے ہیں (اقرب)۔قرآن کریم میں ہے وَالْاَرْضَ وَضَعَھَا لِلْاَنَامِ (الرحـمٰن:۱۱) اس کے معنے یہ ہیں کہ زمین کو اس طرح بنایا کہ چارپایوں کو اس سے فائدہ پہنچے۔اسی طرح فرمایا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ (النساء:۴۷) یعنی مناسب محل سے بدل کر دوسری جگہ رکھ دیتے ہیں۔تفسیر۔اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ کے تین معنے ہو سکتے ہیں۔آب خورے مومنوں کے پاس رکھے جائیں گے چونکہ آب خورے کا کسی کے پاس رکھنا پینے کے لئے ہوتا ہے اس لئے ان معنوں سے یہ استنباط بھی ہو گا کہ وہ بھرے ہوئے ہوں گے۔دوسرے اس کے یہ معنے ہیں کہ آب خورے ان کے پاس ہی دھرے ہوں گے۔تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ آب خورے چشموں کے پاس دھرے ہوں گے۔اس آیت میں مسلمانوں کے قرب الٰہی اور ان کی سخاوت اور فیاضی کا ذکر کیا گیا ہے۔آب خورے ان کے پاس رکھے جائیں گے، کا ایک اشارہ ان کے بھرے ہوئے ہونے کی طرف ہے پس اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنے انعامات کا جام لبا لب پلائے گا اور ہر وقت پلائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مومن فضل و احسان کے جام بھر کر اپنے پاس رکھیں گے تا جو آئے اسے پلائیں۔وہ علومِ آسمانی کے جام بھر بھر کر لوگوں کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے لو جی یہ آب خورے پی لو۔دوسرے معنے اس سے یہ نکلتے ہیں کہ آب خورے مومنوں کے پاس ہی رکھے ہوں گے یعنی علومِ آسمانی کا حصول ان کے لئے آسان کر دیا جائے گا ادنیٰ کوشش سے وہ روح کی پیاس بجھا سکیں گے تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ آب خورے چشموں کے پاس دھرے ہوں گے یعنی دعوتِ عامہ ہو گی جو چاہے پئے۔گویا۔اوّل۔ان کے سینوں کو علومِ آسمانی سے پُر کیا جائے گا۔دوم۔ان کا علم اور عرفان لوگوں کے لئے اس قدر وسیع ہو گا کہ کسی کو مانگنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔