تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 136
دولت تھی مگر آپ چونکہ بہت سخی تھے اس لئے جو کچھ پاس ہوتا بالعموم تقسیم کر دیا کرتے تھے۔لوگ ان پر اعتراض بھی کرتے کہ آپ نے فلاں کو مال دیا ہے۔فلاں کو مال دیا ہے آپ جواب دیتے کہ تم کو اس سے کیا۔میرا اپنا روپیہ ہے میں جہاں چاہوں خرچ کروں تم اس میں دخل دینے والے کون ہو۔تو کوئی فائدہ بھی خلفاء نے بیت المال سے نہیں اٹھایا بلکہ تمام کا تمام روپیہ انہوں نے لوگوں کے فائدہ کے لئے اپنی نگرانی میں صرف کیا۔غرض مسلمانوں کے تخت دوسروں کی نسبت بلند تھے۔دنیا کے بادشاہ قومی خزانہ کو اپنا خزانہ سمجھتے ہیں اور وہ اس پر پورا پورا تصرف رکھتے ہیں آج پبلک اور بادشاہتوں میں یہی جنگ جاری ہے کہ لوگ کہتے ہیں تم روپیہ رعایا کے لئے خرچ کرو اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا روپیہ ہے ہم جس طرح چاہیں گے خرچ کریں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اسلامی حکومت کا نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ ان کے تخت مَرْفُوْعَۃٌ ہوں گے وہ لوگوں کے فائدہ کے لئے حکومت کریں گے گویا نام کے بادشاہ ہوں گے مگر حقیقتاً زمین کے بادشاہوں سے بہت بلند مقام پر ہوں گے۔وہ خزانوں کو اپنے خزانے نہیں سمجھیں گے بلکہ ملک اور قوم کی مِلک تصور کریں گے۔یہی اسلامی حکومت کے معنے ہیں کہ اس میں خزانہ کسی فرد کا نہیں ہوتا بلکہ قوم بحیثیت مجموعی اس خزانہ کی مالک ہوتی ہے میں نے دیکھا ہے بعض غیر احمدی جو ہماری جماعت کو بھی عام پیروں فقیروں کی جماعتوں کی طرح سمجھتے ہیں مجھے خط لکھتے ہیں کہ آپ بڑے مالدار ہیں آپ ہمیں اتنے ہزار یا اتنے لاکھ روپے دے دیں۔میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ میرے پاس جو مال آتا ہے وہ میرا نہیں سلسلہ کا ہوتا ہے میں اسے اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔غرض وہ لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ میں بھی کسی قانون کے ماتحت ہوں اور اس قانون کو توڑ کر بیت المال کے روپیہ کو خرچ کرنے کا حق نہیں رکھتا انہیں بہت سمجھایا جاتا ہے کہ مجھے خزانہ پر کلی اختیار نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے مجھے بھی بعض قوانین کے ماتحت رکھا ہے مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی اور وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ میں بخل کی وجہ سے ان کی مدد نہیں کرتا۔یہ حالت بتاتی ہے کہ مسلمان اسلامی تعلیم سے آج کل کس قدر دور چلے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان امراء مغضوب ہیں جبکہ گذشتہ ایام میں مسلمان امراء اور بادشاہ نہ صرف اپنوں کے محبوب تھے بلکہ غیروں کے بھی محبوب تھے۔کیونکہ وہ حکومت کے روپیہ کو ملک اور خصوصًا غرباء کی ترقی کے لئے خرچ کرتے تھے اور امراء بھی اپنے اموال کو ایک الٰہی امانت سمجھتے تھے اور اسے عیاشی پر نہیں بلکہ رفاہِ عام کے کاموں پر خرچ کرتے تھے۔