تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 10

يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِؕ۰۰۸ وہ (پانی یا انسان) پیٹھ اور سینہ کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔حلّ لُغات۔دَافِقٌ۔دَافِقٌ دَفَقَ سے ہے اور دَفَقَ الْمَاءُ کے معنے ہوتے ہیں اِنْصَبَّ بِـمَرَّۃٍ دفعۃً پانی بہہ پڑا (اقرب) اَلدَّافِقُ کے معنے ہیں اَلْمُنْصَبُّ دفعۃً بہنے والا۔(اقرب) اَلصُّلْبُ۔اَلصُّلْبُ وَالصَّالِبُ۔عَظْمٌ فِی الظَّھْرِ ذُوْفَقَارٍ مِنْ لَّدُنِ الْکَاھِلِ اِلَی الْعَجْبِ (اقرب) صلب اور صالب دونوں ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں یعنی کندھوں سے لے کر عـجب الذنب تک جو ہڈی ہے اسے صلب بھی کہتے ہیں اور صالب بھی کہتے ہیں۔تَرَائِب۔تَرَائِب تَرِیْبَۃٌ کی جمع ہے۔اور اس کے معنے سینہ کی ہڈیوں کے ہیں (اقرب) پس لفظی معنی يَخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِکے یہ ہوئے کہ وہ پانی جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے۔تفسیر۔يَخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ کے ایک لطیف معنے پرانے زمانہ میں لوگوں سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ اس آیت کو دیکھ کر اس طرف مائل ہو گئے کہ مادۂ منویہ سینہ اور پیٹھ کی ہڈیوں کے درمیان سے آتا ہے۔لیکن حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ اس کے ایک بہت ہی لطیف معنی کیا کرتے تھے آپ فرماتے تھے قرآن کریم بڑا لطیف کلام ہے وہ کبھی ننگے الفاظ استعمال نہیں کرتا۔اس نے صلب اور ترائب کا ذکر کرکے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ صلب اور ترائب کا جو وسط ہے وہاں سے مَآءٍ دَافِقٍ نکلتا ہے۔یہ معنے بڑے لطیف اور قرآن کریم کی شان کے بالکل مطابق ہیں۔بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ سے مراد مرد کا صلب اور ماں کی چھاتیاں بعض لوگوں نے بَيْنِ الصُّلْبِ سے مراد مرد کا صلب اور ترائب سے مراد عورت کا سینہ لیا ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت يَخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآىِٕبِ) اور وہ معنے یہ کرتے ہیں کہ انسان مرد کی پیٹھ سے پیدا ہوتا اور ماں کی چھاتیوں سے پلتا ہے۔گویا صلب سے مراد صُلْبُ الْأَبِ اور ترائب سے مراد تَرَائِبُ الْاُمِّ ہے یہ معنے عام معنوں سے زیادہ معقول ہو جاتے ہیں اور طبی لحاظ سے بھی اس پر کوئی اعتراض واقعہ نہیں ہوتا۔