تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 135
بھی معنے ہیں کہ وہ بلند رکھے گئے ہوں گے گویا دونوں قسم کی خوبیاں ان میں پائی جاتی ہوں گی۔مومنوں کی یہ شان بھی ہو گی کہ وہ نیک اعمال میں ترقی کرتے جائیں گے اور دوسروں سے نیکی میں بلند قامت ہونے کی کوشش کریں گے اور وہ اس لحاظ سے بھی مَرْفُوْعَۃٌ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ ان کو اپنی طرف اٹھا لے جائے گا۔گویا جہاں تک ان کا انسانوں سے واسطہ ہے وہ دوسرے بنی نوع انسان سے بلند قامت ہوں گے اور نیکی اور تقویٰ کے لحاظ سے اس قدر فائق ہوں گے کہ ان میں اور عام لوگوںمیں کوئی نسبت ہی نہیں ہو گی اور جہاں تک خدا تعالیٰ کا تعلق ہے وہ باقی انسانوں کے مقابل پران سے الگ قسم کا سلوک کرے گا اور وہ انہیں اپنا مقرب بنا لے گا۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو جو بادشاہتیں ملیں گی وہ بالکل الگ قسم کی ہوں گی وہ اس جہان کی بادشاہتوں کی طرح نہیں ہوں گی بلکہ مَرْفُوْعَۃٌ ہوں گی۔ان کے تخت آسمان پر رکھے جائیں گے چنانچہ دیکھ لو مسلمان بادشاہ تو ہوئے مگر انہوں نے دنیوی طور پر بادشاہت سے کیا فائدہ اٹھایا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام عالم اسلامی کے بادشاہ تھے مگر ان کو کیا ملتا تھا۔پبلک کے روپیہ کے وہ محافظ تو تھے مگر خود اس روپیہ پر کوئی تصرف نہیں رکھتے تھے۔بے شک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بڑے تاجر تھے مگر چونکہ ان کو کثرت سے یہ عادت تھی کہ جونہی روپیہ آیا خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیااس لئے ایسا اتفاق ہوا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ خلیفہ ہوئے تو اس وقت آپ کے پاس نقد روپیہ نہیں تھا۔خلافت کے دوسرے ہی دن آپ نے کپڑوں کی گٹھڑی اٹھائی اور اسے بیچنے کے لئے چل پڑے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ رستہ میں ملے تو پوچھا کیا کرنے لگے ہیں؟ انہوں نے کہا آخر میں نے کچھ کھانا تو ہوا اگرمیں کپڑے نہیں بیچوںگا تو کھاؤں گا کہاں سے۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ تو نہیں ہو سکتا اگر آپ کپڑے بیچتے رہے تو خلافت کا کام کون کرے گا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگرمیں یہ کام نہیں کروں گا تو پھر گذارہ کس طرح ہو گا؟ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ بیت المال سے وظیفہ لے لیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں یہ تو برداشت نہیں کرسکتا۔بیت المال پر میرا کیا حق ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جب قرآن کریم نے اجازت دی ہے کہ دینی کام کرنے والوں پر بھی بیت المال کا روپیہ صرف ہو سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں لے سکتے۔چنانچہ اس کے بعد بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر ہوگیا مگر اس وقت کے لحاظ سے وہ وظیفہ صرف اتنا تھا جس سے روٹی کپڑے کی ضرورت پوری ہوسکے۔(الطبقات الکبـرٰی زیر عنوان ذکر بیعۃ ابی بکر) پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے ان کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بالکل سادہ طور پر اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔خلفاء میں سے صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس