تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 134

پھر جو کچھ سیکھتے اسے اپنے سینوں میں ہی نہ رکھتے بلکہ لوگوں تک پہنچا دیتے۔گویا وہ ایک جاری چشمہ تھا جو دنیا کو سیراب کررہا تھا۔کتنی زبردست خواہش دوسروں تک علوم پہنچانے کی ہے جو اس صحابی کے دل میں پائی جاتی تھی جس نے کہا کہ اگر تلوار میری گردن پر چل رہی ہو تو اس وقت میری آخری خواہش یہ ہوگی کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی کوئی بات بیان کرنی مجھ سے رہ گئی ہو تو میں اسے جلدی جلدی بیان کر دوں۔یہی خوبی ہماری جماعت کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے اور اپنے آپ کو علوم کے لحاظ سے عَیْنٌ جَارِیَۃٌ ثابت کرنا چاہیے۔فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ۰۰۱۴ (اور) اس میں اونچے تخت (بھی) رکھے ہوں گے۔حلّ لُغات۔سُرُرٌ۔سُرُرٌ: سَـرِیْرٌ کی جمع ہے اور سُرُرٌ کی بجائے اَسِـرَّۃٌ بھی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے اس کے معنے تخت کے ہوتے ہیں خصوصاً یہ لفظ بادشاہ کے تخت کے لئے بولا جاتا ہے چنانچہ کہتے ہیں زَالَ عَنْ سَـرِیْرِہٖ وہ اپنے سریر سے ہٹ گیا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ ذَہَبَ عِزُّہٗ وَنِعْمَتُہٗ اس کی عزت اور دولت جاتی رہی سُـمِّیَ بِہٖ لِاَنَّ مَنْ جَلَسَ عَلَیْہِ مِنْ اَھْلِ الرِّفْعَۃِ وَالْـجَاہِ یَکُوْنُ مَسْـرُوْرًا سریر کا لفظ اس لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ مال دار اور جاہ وجلال کے مالک لوگ تخت پر بیٹھتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں۔پس چونکہ اس مقام کا حصول دل میں سرور پیدا کرتا ہے اس لئے تخت کا نام ہی سریر رکھ دیا گیا۔(اقرب) مَرْفُوْعَۃٌ۔مَرْفُوْعَۃٌ: رَفَعَ سے ہے اور رَفَعَہٗ کے معنے ہوتے ہیں اس نے کسی چیز کو بلند کیا (اقرب) یہ بلندی خواہ اونچا بنانے کے لحاظ سے ہو جیسے کہتے ہیں مینار اونچا بنایا گیا اور خواہ اونچا کرنے کے لحاظ سے ہو جیسے کسی چیز کو اٹھا کر اونچا کیا جاتا ہے۔دونوں رنگ میں اس لفظ کا استعمال ہو جاتا ہے۔مثلاً کہتے ہیں دیوار اونچی ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ لمبی چلی جاتی ہے اور قامت کے اعتبار سے بلند ہے یا کہتے ہیں چھت اونچی ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ زمین اور چھت میں فاصلہ زیادہ ہے گویا قامت کی بلندی ہو یا فاصلہ کی زیادتی دونوں پر رفع کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔پس مَرْفُوْعَۃٌ کے معنے ہوں گے اونچے کئے ہوئے۔بلند کئے ہوئے۔تفسیر۔سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ کے دو معنے اس آیت کے ایک معنے یہ ہیں کہ وہ بلند شان والے ہوں گے۔کیونکہ سُرُرٌ کے ساتھ مَرْفُوْعَۃٌ ہونا زیادہ شان اور عزت پر دلالت کرتا ہے۔لیکن اس کے یہ