تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 130
عالیہ کے معنے بلند کے ہیں۔جو چیز سایہ دار ہو اس کی اندر کی چیزیں لوگوں کو نظر نہیں آتیں اور جو چیز بلندی پر ہو اس پر دھوپ پڑتی ہے سایہ دار نہیں رہ سکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جن باغات کا ہم ذکر کرتے ہیں ان کے اندر دونوں قسم کی خوبیاں پائی جائیں گی جہاں تک شہرت اور عزت کا سوال ہے وہ عالیہ ہوں گے اور جہاں تک ان کی نیکیوں اور خوبیوں کا سوال ہے وہ سایہ دار ہوں گے یعنی لوگوں کی نظریں بھی ان کی طرف اٹھیں گی اور پھر وہ تمازت اور دھوپ کا شکار بھی نہیں ہوں گے بلکہ ہر وقت سایۂ رحمتِ الٰہی کے نیچے رہیں گے ورنہ اکثر لوگ بلندی پر پہنچ کر ننگے ہوجاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کا سورج بجائے ان کے لئے نفع مند ہونے کے ان کے جلانے کا موجب ہو جاتا ہے۔لَا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةًؕ۰۰۱۲ وہ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔حلّ لُغات۔لَاغِیَۃٌ۔لَاغِیَۃٌ کے معنے ہیں اَللَّغْوُ یعنی لغو اور بے ہودہ بات۔کہتے ہیں کَلِمَۃٌ لَاغِیَۃٌ اَیْ فَاحِشَۃٌ۔کَلِمَۃٌ لَاغِیَۃٌ ایسے کلمہ کو کہتے ہیں جو فحش اور برا ہو وَمِنْہُ ’’۔لَاتَسْمَعُ فِیْـھَا لَاغِیَۃً۔‘‘ اَیْ کَلِمَۃً ذَاتَ لَغْوٍ اور لَاتَسْمَعُ فِیْھَا لَاغِیَۃً کے یہ معنے ہیں کہ تو اس میں کوئی فحش اور بری بات نہیں سنے گا یا وہ چہرے اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔(اقرب) تفسیر۔لَاغِیَۃً سننے کی دو وجوہات اور مومنوں کا ان سے پاک ہونا دنیا میں انسان دو۲ ہی طرح بری باتیں سنتا ہے یا تو اس طرح کہ وہ خود کج رو ہوتا ہے اور لوگوں سے لڑتا رہتا ہے اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر اسے لَاغِیَۃ سننا پڑتا ہے مثلاً جب وہ دوسرے کو خبیث کہے گا تو خبیث کا لفظ اس کے اپنے کان میں بھی پڑے گا اور اس طرح اسے لَاغِیَۃ سننا پڑے گا اور یا پھر دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس سے لڑتے ہیں اور وہ لَاغِیَۃ سنتا ہے۔اپنا کہا انسان تب سنتا ہے جب وہ لوگوں سے خوش نہ ہو اور لوگوں سے لَاغِیَۃ تب سنتا ہے جب لوگ اس سے خوش نہ ہوں مگر فرماتا ہے وہ لوگ ایسے ہوں گے کہ لَاغِیَۃ نہیں سنیں گے یعنی وہ لوگوں سے خوش ہوں گے اور لوگ ان سے خوش ہوں گے ان میں رحم ہو گا، ان میں ہمدردی ہو گی، ان میں پردہ پوشی کی عادت ہو گی، ان میں حسنِ سلوک کا جذبہ ہو گا، ان میں محبت ہو گی، ان میں خلوص ہو گا اور اس وجہ سے وہ لوگوں سے لڑیں