تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 129

ہوں گے جن کے کرنے کا انہوں نے ارادہ کیا ہے اور جب وہ حال سے ماضی کی طرف نگاہ دوڑائیں گے تب بھی انہیں اپنے افعال پر اطمینا ن ہو گا۔پس دنیا کی رائے بھی ان کے متعلق اچھی ہو گی اور ان کی اپنی رائے بھی اپنے متعلق اچھی ہو گی بلکہ یوں کہو کہ انعامات چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتے ہیں اور سب تعریفیں اسی کی طرف سے آتی ہیں اس لئے خدا کی رائے بھی ان کے متعلق اچھی ہو گی پبلک کی رائے بھی ان کے متعلق اچھی ہو گی اور ان کی اپنی رائے بھی اپنے متعلق اچھی ہو گی اور یہی انسانی اعمال کے تین اہم ترین حصے ہیں یعنی انسان کا اپنی ذات سے معاملہ، انسان کا بنی نوع انسان سے معاملہ اور انسان کا خدا تعالیٰ سے معاملہ۔اپنی ذات سے ان کا معاملہ ایسا ہو گا کہ ان کی اپنی رائے اپنے متعلق اچھی ہو گی۔بنی نوع انسان سے ان کا معاملہ ایسا ہو گا کہ پبلک کی رائے ان کے متعلق اچھی ہو گی اور خدا تعالیٰ سے ان کا معاملہ ایسا ہو گا کہ خد اتعالیٰ کی رائے ان کے متعلق اچھی ہو گی۔جب یہ تینوں تعریفیں کسی کو حاصل ہو جائیں تو اس میں کیا شبہ ہے کہ وہ فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ کا مصداق ہوتا ہے۔لوگوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جہاں جاتا ہے لوگ اسے اپنی آنکھوں پر بٹھاتے ہیں خواہ مالی لحاظ سے اس کے پاس ایک پیسہ تک نہ ہو۔اس کے کپڑے پھٹے پرانے ہوں لیکن وہ خود اپنے نفس میں بھی اپنے آپ کو بلند پاتا ہے دنی نہیں پاتا بلکہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اخلاقی لحاظ سے مجھے بلند مرتبہ دیا ہے ذلیل لوگوںمیں مجھے شامل نہیں کیا۔اور لوگ بھی اس کی عزت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ سے مراد ایسے باغات جو اونچی جگہ ہوں پرانے زمانہ میں شاید جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ کا مفہوم پوری طرح نہ سمجھا جاتا ہو مگر اس زمانہ میں اس کا مفہوم سمجھنا بالکل آسان ہے کیونکہ ہینگنگ گارڈنز (HANGING GARDENS) دنیا میں پائے جاتے ہیں اور بمبئی میں بھی ایسے کئی باغات ہیں میں اوائل عمر میں ایک دفعہ بمبئی گیا وہاں مجھے بتایا گیا کہ یہاں ہینگنگ گارڈنز ہیں۔مجھے خیال ہوا کہ شاید کھمبوں میں گملے لٹکا کر باغات بنائے گئے ہوں گے یا کسی چٹان پر جو آگے بڑھی ہو گی اور ہوا میں معلّق نظر آتی ہوگی۔مگر جب مجھے کوئی ایسا باغ وہاں نظر نہ آیا تو میں نے کسی سے پوچھا کہ لوگ تو کہتے تھے یہاں ہینگنگ گارڈنز ہوتے ہیں مگر مجھے تو کوئی نظر نہیں آیا۔اس پر اس نے بتایا کہ ہینگنگ گارڈنز تو ابھی آپ دیکھ کر آئے ہیں تب مجھے پتہ لگا کہ ہینگنگ گارڈن کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لٹکا ہوا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اونچی چوٹی پر ہے اور چونکہ لوگ نیچے ہوتے ہیں اور باغات چوٹی پر ہوتے ہیں اس لئے ان کو ہینگنگ گارڈنز کہا جاتا ہے یعنی بلند اور اونچے باغات۔اسی طرح فرماتا ہے مومن ایسے باغات میں ہوں گے جو اونچے اور بلند ہوں گے۔جنت کے معنے سایہ دار جگہ کے ہیں اور