تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 122
رَفِہَ وہ خوشحال اور آسودہ حال ہو گیا۔اور جب نَعَمَ عَیْشُہٗ کہیں تو معنے ہوتے ہیں طَابَ وَلَانَ وَ اِتَّسَعَ۔یعنی اس کی زندگی عمدہ ہو گئی اور کسی تکلیف کا سامنا اسے نہ کرنا پڑا۔اور ہر چیز اسے بافراغت ملنے لگی (اقرب) بحر محیط کے مصنّف نے نَاعِـمَۃٌ کے معنے حسن و نضارت والے کے کئے ہیں اور پھر لکھا ہے کہ نَاعِـمَۃٌ کے معنے مُتَنَعِّمَۃ کے بھی ہوتے ہیں یعنی یہ معنے بھی ہیں کہ ان میں حسن اور نضارت اور تازگی پائی جائے گی اور ان کے چہرے خوبصورت ہوں گے اور یہ بھی معنے ہیں کہ انہیں بڑی بڑی نعمتیں حاصل ہوں گی (البحر المحیط زیر آیت ’’وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ‘‘) تفسیر۔کفار کے مقابل پر مومنون کی حالت کا نقشہ پہلی آیت میں وُجُوْهٌ کا ذکر تھا جن کی صفت یہ تھی کہ وہ عَامِلَۃٌ اور نَاصِبَۃٌ تھے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں یا آنے والے ماموروں کے مقابلہ میں خوب عمل کرنے والے اور تھکا دینے والی محنت کرنے والے تھے انفرادی رنگ میں بھی اور اجتماعی رنگ میںبھی۔مگر اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ باوجود ان کے انفرادی اور اجتماعی مقابلوں کے یہ نہیں ہو گا کہ خدا کا رسول دب جائے یا اکیلا رہ جائے بلکہ اس کی جماعت بڑھتی چلی جائے گی اور وہ جماعت ایسی ہو گی جو دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل کرنے والی ہو گی چنانچہ انہی کا ذکر وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ میں کیا گیا ہے۔سردارانِ کفار کو وُجُوْهٌ اس لئے کہا گیا تھا کہ وہ ابتداء میں وُجُوْهٌ تھے گو بعد میں خَاشِعَۃٌ ہو گئے اور جو لوگ گر جائیں۔لوگوں کی نگاہ میں ذلیل ہو جائیں۔ان کی آواز میں کوئی اثرنہ رہے اور وہ غم والم کی آگ میں ہر وقت جلتے رہیں وہ وُجُوْهٌ نہیں رہتے۔پس ان کا نام وُجُوْهٌ ان کی ابتدائی حالت کی وجہ سے رکھا گیا تھا کیونکہ شروع میں وہ واقعہ میں سردارانِ قوم میں سے تھے بڑی عزت اور وجاہت رکھتے تھے۔مگر مسلمانوں کا نام وُجُوْهٌ ان کی انتہا کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کام وہی اچھا ہوتا ہے جس کا انجام اچھا ہو۔کافر وُجُوْهٌ بن کر اٹھے اور خَاشِعَۃٌ بن کر رہ گئے۔مگر مومن گری ہوئی حالت سے اٹھے اور وُجُوْهٌ بن گئے۔ہر قسم کی عزت، رتبے اور درجے ان کو حاصل ہو گئے۔چنانچہ دیکھ لو کفار کی کیا حالت ہوئی اور مومن کس حالت کو پہنچ گئے۔ابو جہل بڑا ذوالوجاہت تھا مگر مرا کس حالت میں؟ ایسی حالت میں کہ پندرہ پندرہ برس کے دو انصاری لڑکوں نے اس کو جنگ بدر میں مار گرایا(صحیح البخاری کتاب المغازی باب فضل من شھد بدرًا)۔اس کے مقابلہ میں حضرت ابوبکرؓ مکہ کے ایک معمولی تاجر تھے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور انہیں اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا تو مکہ میں بھی کسی نے یہ خبر پہنچا دی۔ایک مجلس میں بہت سے لوگ بیٹھے تھے