تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 121
اس کی ذلّت ہو گی عزّت افزائی نہیں ہو گی اور نہ کوئی یہ کہے گا کہ اسے وہ غذا دی گئی ہے جو موٹا کرتی ہے۔شہاب الدین غوری نے جب ہندوستان پر حملہ کیا تو ایک جنگ میں پرتھوی راج کے مقابلہ میں اس کے لشکر کے بعض سپاہی بھاگ اٹھے۔شہاب الدین غوری نے بھاگنے والوں کے متعلق حکم دیا کہ ان کے منہ پر توبڑا باندھ کر اور اس میں چنے ڈال کر ان سے کہا جائے کہ یہ چنے کھاؤ۔چنانچہ ان کے منہ پر توبڑے باندھے گئے اور ان میں چنے ڈال دیئے گئے یہ بتانے کے لئے کہ یہ لوگ جانوروں سے مشابہت رکھتے ہیں۔(تاریخ فرشتہ ترجمہ اردو جلد اوّل صفحہ ۲۲۰) اب کیا کوئی معقول آدمی کہہ سکتا ہے کہ وہ سپاہی اس پر بڑے خوش ہوئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ دانہ تو اچھے گھوڑے یا اچھے گدھے کو ڈالا جاتا ہے اگر ہمیں بھی دانہ ڈال دیا گیا ہے تو کیا ہوا۔پس میں تو سمجھ ہی نہیں سکا کہ اس بحث کے معنے ہی کیا ہوئے۔پھر یہ بحث بھی بالکل لغو ہے کہ ضریع اونٹ کو فائدہ دیتا ہے یا نہیں۔اوّل تو لغت والے لکھتے ہیں کہ لَاتَقْرُبُہٗ دَابَّۃٌ لِـخُبْثِہٖ۔اس کے گند اور خرابی کی وجہ سے جانور بھی اس کو نہیں کھاتا۔لیکن اگر وہ کھاتا بھی ہے تب بھی مکہ والوں نے اگر یہ بات کہی تو یقیناً انہوں نے اپنے جانور ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اگر کسی آدمی کو یہ کہا جائے کہ تمہیں جانور کا کھانا ملے گا تو کیا وہ یہ کہے گا کہ مجھے بے شک دے دو کیونکہ جانور اس کے کھانے سے موٹا ہوتا ہے۔پس مفسرین کا اس بحث میں پڑ جانا کہ ضریع اونٹ کو موٹا کرتا ہے یا نہیں بالکل لغو بات ہے۔قرآن نے ابوجہل اور عتبہ اور شیبہ وغیرہ کا ذکر کیا ہے کہ ان کو ضریع ملے گا اونٹوں کا ذکر نہیں کیا کہ یہ بحث کی جائے کہ اونٹ تو اس کے کھانے سے موٹے ہو جاتے ہیں۔اگر کسی کے ہاں کوئی چوڑھا بھی بطور مہمان آئے اور وہ اس کے سامنے بھوسہ ڈال دے یا تازہ بتازہ گھاس لا کر رکھ دے جس کے کھانے سے بیل اور بھینسیں موٹی ہوتی ہیں تو وہ خوش نہیں ہو گا بلکہ اسے اپنی انتہائی ہتک سمجھے گا۔اسی طرح جب اللہ تعالیٰ یہاں آدمیوں کا ذکر کر رہا ہے تو اس بحث کا مطلب ہی کیا ہوا کہ ضریع اونٹ کو موٹا کر دیتا ہے۔میں بادب ان مفسرین سے کہتا ہوں کہ یہاں آدمیوں کی بات ہو رہی ہے جانوروں کی نہیں۔اگر مکہ والوں نے ایسا کہا تھا تو یقیناً انہوں نے اپنے جانور ہونے کا ثبوت دیا تھا آپ کو ان کا جواب دینے کی فکر نہ کرنی چاہیے۔وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌۙ۰۰۹ کچھ (اور) چہرے اس دن خوش بخوش ہوں گے۔حلّ لُغات۔نَاعِـمَۃٌ۔نَاعِـمَۃٌ: نَعَمَ سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور نَعَمَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں