تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 113
جس مجسٹریٹ کے پاس وہ مقدمہ گیا اتفاق سے وہ احمدی تھا۔وہ احمدی مجسٹریٹ مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے ذکر کیا کہ فلاں مخالف کے لڑکے کا مقدمہ میرے پاس ہے اور وہ اس کے متعلق بڑی سفارشیں بھجوا رہا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے۔میں نے انہیں کہا کہ اگر آپ اسے جائز طور پر چھوڑ سکتے ہیں تو ضرور چھوڑ دیں تا کہ اس کے باپ کو شرم محسوس ہو کہ میں تو جماعت احمدیہ کی مخالفت کرتا رہا مگر احمدی مجسٹریٹ نے میرے بچے کو رہا کر دیا۔یہ ایسا احسان ہو گا جو ساری عمر اس کی آنکھیں نیچی رکھے گا۔اس لئے جائز طور پر اور قانون کی مناسب تشریح سے اگر آپ اس کو چھوڑ سکتے ہوں تو ضرور چھوڑ دیں۔اسی طرح میں جب حج کے لئے گیا تو ہمارے ایک رشتہ دار جو ہمارے نانا جان مرحوم کی ہمیشرہ کے بیٹے تھے اور اس لحاظ سے ہمارے ماموں تھے اور بھوپال کے رہنے والے تھے انہوں نے اور ان کے ساتھ ہی ایک اور شخص نے جو بھوپال کے رہنے والے تھے اور نواب جمال الدین خاں صاحب کے نواسے تھے اور جن کا نام خالد تھا ہمارے خلاف سخت شورش شروع کر دی اور لوگوں کو یہ کہہ کر بھڑکانا شروع کر دیا کہ یہ لوگ کفر پھیلاتے ہیں اور ساتھ ہی مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی کو (جو اس سال حج کو گئے تھے) مباحثہ کے لئے آمادہ کرنا شروع کیا اور ان کی غرض یہ تھی کہ اس طرح ان کا اعلان کثرت سے ہو گا اور مباحثہ ہوا تو لوگ جوش میں آ کر انہیں قتل کر دیں گے گورنمنٹ کو انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے توجہ دلائی کہ ان کے خلاف فوری کارروائی کرے اور اس فتنہ کو بڑھنے سے روکے لیکن ہمیں ان کی اس اشتعال انگیزی کا کوئی علم نہ تھا۔میں ایک دن ایک عرب عالم مولانا عبدالستار کبتی کو جو شریف مکہ کے بیٹوں کے استا د تھے تبلیغ کرنے کے لئے گیا۔وہ بہت ہی شریف الطبع آدمی تھے عقیدۃً وہابی تھے مگر اپنے آپ کو وہابی ظاہر نہیں کرتے تھے بلکہ حنبلی ظاہر کرتے تھے انہوںنے باتوں باتوں میں اپنے متعلق خود ہی بتایا کہ میں ہوں تو اہل حدیث لیکن یہاں اہل حدیثوں کو چونکہ لوگ سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لئے میں اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتا۔تعلیم کا کام بھی میں مفت اس لئے کرتا ہوں تا کہ شریف کے خاندان کی امداد حاصل رہے۔اس پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے کوئی شخص میرے خلاف شرارت کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔آدمی بڑے شریف تھے میں ان کو کافی دیر تک تبلیغ کرتا رہا۔جاتی دفعہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک کتاب کے متعلق فرمایا تھا کہ اس کا عرب ممالک سے پتہ لگانا۔انہیں بھی کتابوں کا شوق تھا میں نے ان سے اس کتاب کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ کتا ب میرے پاس تو نہیں لیکن حلب کے کتب خانہ میں موجود