تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 101
مخالفت ہو اور مخالفت کے بعد اس کو ترقی نصیب ہو۔غرض ان دونوں سورتوں سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام کو ہمیشہ شدید مخالفت کے بعد ترقی ہوتی ہے پس یہ دونوں سورتیں مضامین کے لحاظ سے آپس میں گہرا تعلق رکھتی ہیں۔سورۃ غاشیہ کا سورۃ الاعلیٰ سے تعلق اس سورۃ کا سورۃ الاعلیٰ سے ایک قریبی تعلق بھی ہے جو بحر محیط کے مصنّف نے بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں نار اور آخرت سے ڈرانے کا حکم تھا اور اس سورۃ میں دوزخ و جنت کا ذکر کیا گیا ہے مگر اصل تعلق وہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے کہ ان ہر دو سورتوں میں اسلام کی ترقی کے دو۲ اصول بیان کئے گئے ہیں۔سورۃ الاعلیٰ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا تنزّل ہو گا قرآن کریم کے بھولنے سے ہو گا اور جب بھی مسلمانوں کی ترقی ہو گی ایسے شخص کے ذریعہ ہو گی جو قرآن کو آسمان سے واپس لائے گا گویا ایسے مامور تو آئیں گے جو بھولے ہوئے قرآن کو یاد کرائیں گے مگر ایسے مامور نہیں آ سکتے جو نئی شریعت لائیںاور سورۃ الغاشیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مسلمانوں کی ترقی دَور اوّل میں ہو یا دَور آخر میں ہمیشہ ایسے ماموروں کے ذریعہ ہو گی جن کی شدید مخالفت ہو گی مگر بالآخر وہ جیت جائیں گے جیسا کہ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ میں بتایا ہے۔پس مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی ترقی ہمیشہ مامورین پر ایمان لانے اور ساری دنیا سے لڑائی جھگڑا مول لینے کے بعد ہو گی۔ایسا وجود کوئی نہیں آ سکتا جسے لوگ آپ ہی آپ مان لیں۔پس آسمان سے کسی مامور کے اترنے کا خیال بالکل خلاف قرآن ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِؕ۰۰۲ کیا تجھے (دنیا پر) چھا جانے والی (مصیبت) کی بھی خبر پہنچی ہے؟ (یا نہیں)۔حلّ لُغات۔ھَلْ۔ھَلْ جب فعل سے پہلے آئے تو اس کے معنے قَدْ کے ہوتے ہیں لیکن عام طور پر ھَلْ تصدیق ایجابی کے لئے آتا ہے (مغنی اللبیب لابن ھشام) یعنی عام معنے اس کے ایسے سوال کے ہیں جس کے جواب میں تصدیق کا مطالبہ ہوتا ہے سوائے اس کے کہ اس کے بعد اِلَّا آ جائے اس وقت اس کے معنے نفی کے ہوجاتے ہیں۔پس آیت کے معنے یا تو یہ ہوں گے کہ کیا حدیثِ غاشیہ آ پہنچی یا نہیں یعنی آ پہنچی ہے اور یا پھر یہ