تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 100

اللہ تعالیٰ نے صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کی خبر نہیں دی بلکہ جماعت مسلمہ کی ترقی کی بھی خبر دی ہے اسی طرح وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَۃٌ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ میں اجتماعی طور پر کفار کے متعلق خبر دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ناکام رہیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سورۃ الاعلیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اور آخری زمانہ یعنی ہر دو زمانوں کے متعلق ہے اور یہ سورۃ بھی ان دونوں زمانوں کے حالات بیان کرتی ہے۔چونکہ ان دونوں سورتوں کا مضمون ایسا ہے جو شروع زمانۂ اسلام سے آخر زمانۂ اسلام تک تعلق رکھنے والا تھا۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ جمعہ اور عیدین میں بالالتزام ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔جمعہ اور عیدین جو اجتماع کے مواقع ہیں ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں سورتوں کی تلاوت کرنا بتاتا ہے کہ جب بھی مسلمان اجتماعی طاقت پکڑنے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جب بھی خدا تعالیٰ مسلمانوں کی کمزوری کو دور کرنے لگے گا اس وقت یہ دونوں سورتیں اپنے مطالب کے لحاظ سے ظاہر ہو جائیں گی۔سورۃ الاعلیٰ میں یہ بات واضح کی گئی تھی کہ مسلمانوں کی ترقی اسی وقت ہو گی جب قرآن کریم کے معارف اور اس کے علوم کو ظاہر کرنے والا مامور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گا۔گویا مسلمانوں کی ترقی کبھی بھی دنیوی ذرائع سے نہیں ہو گی بلکہ مامورین پر ایمان لانے اور ان کی ہدایات پر چلنے کے ذریعہ ہو گی جیسا کہ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى کے الفاظ اس پر شاہد ہیں کہ قرآن کریم کے خدام جو بھولے ہوئے قرآن کو پھر واپس لائیں گے ان کے ذریعہ ہی مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عزت کو حاصل کر سکیں گے۔آج جو مسلمان سیاسی ذرائع سے ترقی حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو سورۃ الاعلیٰ کے مضامین کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔اسلام کی ترقی تلواروں کے سایہ کے نیچے اب اس سورۃ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب بھی اسلام کو ترقی ہو گی تلواروں کے سایہ کے نیچے ہو گی۔کبھی کوئی مامور ایسا نہیں آ سکتا جس کے آنے پر دنیا اس کا خوشی سے استقبال کرے اور کہے کہ ’’جی آئیاں نوں‘‘ یا ’’بھلے آئے‘‘ یا ’’برسروچشم‘‘ بلکہ جب بھی کوئی مامور آئے گا وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ کی حالت رونما ہو گی اور ضرور اس کی مخالفت ہو گی اس مخالفت کے بغیر کسی روحانی سلسلہ کی ترقی کا امکان بالکل ناممکن ہے۔اگر حضرت مسیح ناصریؑ جیسا کہ مسلمان سمجھتے ہیں کسی وقت آسمان سے اتر آئیں تو ان کے زمانہ میں وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔لوگ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے اور ان کے حلقۂ غلامی میں شامل ہو جائیں گے کیونکہ فرشتے ان کے ساتھ ہوں گے اور کسی کو انکار کی جرأت نہیں ہو سکے گی۔مگر الٰہی سنت کے ماتحت ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ضروری ہے کہ ہر الٰہی سلسلہ کی