تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 99

دشمنی کا اظہار نہیں جو عملًا رونما ہو چکی ہو لیکن اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ لوگ منصوبہ بازیاں کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں پر سختی کریں اور مسلمان حیران ہیں کہ اب ہمارا کیا بنے گا۔پس یوروپین مصنّفین کا استدلال غلط نہیں کہ یہ سورۃ ابتدائی زمانہ کی ہے بلکہ اسلامی روایات کے مطابق درست ہی معلوم ہوتا ہے۔سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ غاشیہ کا اسلام کی اجتماعی زندگی کے ساتھ گہرا تعلق اس سورۃ اور سورۃ الاعلیٰ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعہ اور عیدین میں پڑھنا اور بالالتزام پڑھنا اور اتنا تعہد کرنا کہ اگر دونوں نمازیںجمع ہو جائیں تب بھی آپ دونوں میں التزامًا یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے بتاتا ہے کہ اسلام کی اجتماعی زندگی کے ساتھ یہ دونوں سورتیں گہرا تعلق رکھتی ہیں۔سورۃ الاعلیٰ کا جوڑ تو نظر ہی آتا ہے کہ اس میں قرآن کریم کے قولِ فصل ہونے کے لحاظ سے بحث کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسلام اپنے انتہائی کمال کو پہنچ جائے گا۔اس ضمن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلام کو ایسے خادم مل جا ئیں گے جو قرآن کریم کے حافظ ہوں گے۔اسی طرح اس کی حفاظت کے متعلق اور کئی قسم کی غیر معمولی تحریکات دنیا میں جاری ہو جائیں گی۔گویا سورۃ الاعلیٰ اسلامی ترقی اور دین اسلام کی اشاعت اس کے ماننے والوں کی زیادتی اور مسلمانوں کے غلبہ پر دلالت کرتی تھی اور سورۃ الغاشیہ میں گو وہ مضمون نہیں مگر اس میں بھی یہ بات ضرور پائی جاتی ہے کہ کافروں کے اسلام کے خلاف اٹھنے اور زور لگانے کا اس میں اشارہ کیا گیا ہے اور مومنوں کا ان کے مقابلہ میں کامیاب ہونا اشارۃً بیان کیا گیا ہے مگر چونکہ ابھی اسلام کے ابتدائی ایام تھے اور خواہ مخواہ کفار کو بھڑکانہ مقصود نہیں تھا اس لئے جنگ اور مقابلے کا اللہ تعالیٰ صریح الفاظ میں ذکر نہیں کرتا بلکہ ایسے الفاظ میں ذکر کرتا ہے جو ٹھیس لگانے والے نہ ہوں۔جس طرح دشمن نے کھلے طور پر مخالفت کا اظہار نہیں کیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی کھلے طور پر یہ ذکر نہیں کیا کہ مسلمان لڑیں گے اور کفار کو مغلوب کرلیں گے صرف نتیجے کا ذکر کر دیا ہے کہ اسلام کے خلاف مخالفین کچھ کوششیں کریں گے لیکن وہ اسلام کو گزند پہنچانے میں ناکام رہیں گے اور آخر مسلمانوں کو اپنے مخالفین پر غلبہ حاصل ہو جائے گا۔گویا صاف الفاظ میں اس سورۃ میں لڑائی کا ذکر نہیں کیا صرف اشارۃً اس کا ذکر کیا ہے تاکہ اس وقت جب کہ مخالفین اسلام نے کھلے طور پر حملہ نہیں کیا تھا اس قسم کی باتوں کی وجہ سے اسلام کی طرف سے ابتدا نہ سمجھی جائے اور یہ خیال نہ کیا جائے کہ کفار کو انہوں نے بھڑکا دیا ہے۔سورۃ کا خلاصہ مضمون اس سورۃ کا مضمون بھی اجتماعی کاموں پر دلالت کرتا ہے۔چنانچہ اس سورۃ میں ایک مجموعۂ افراد کا ذکر کرتے ہوئے پیشگوئی کی گئی ہے کہ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ۔ان الفاظ میں