تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 98

سُوْرَۃُ الْغَاشِیَۃِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ غاشیہ۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ سِتٌّ وَّعِشْـرُوْنَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے علاوہ چھبیس آیات ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ غاشیہ مکی سورۃ ہے اس سورۃ کا نام غاشیہ ہے اور یہ سورۃ بغیر کسی اختلاف کے مکی ہے۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ دونوں سے مروی ہے کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی تھی اور چونکہ کوئی اور روایت اس کے خلاف نہیں اس لئے اس سورۃ کے مکی ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔مسند احمد بن حنبل اور مسلم اور سنن نسائی اور سنن ابوداؤد اور ابن ماجہ میں نعمان بن بشیرؓ سے روایت آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عیدین کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى اور دوسر ی میں سورۃ الغاشیہ پڑھا کرتے تھے بلکہ اگر دونوں نمازیں جمع ہو جاتی تھیںیعنی اگرکبھی عیدالفطر اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے یا عیدا لاضحیہ اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے تب بھی آپ دونوں نمازوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب الجمہ، باب ما یقرأ فی صلاۃ الجمعۃ ) زمانہ نزول پادری ویری لکھتے ہیں کہ اس سورۃ کے نزول کا زمانہ چوتھے سال نبوت کے قریب ہے کیونکہ اس کے مضامین ایسے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ مسلمانوں پر کفار کے مظالم یا تو شروع ہو گئے تھے یا شروع ہونے والے تھے۔(A Comprehensive Comentary on Quran by Wherry vol:4 p239) نولڈکے NOLDEKE جو جرمن مصنّف ہے اس کا بھی یہی خیال ہےاور چونکہ صحابہؓ کی رائے بھی جو قطعی طور پر آپس میں ملتی ہے اس رائے کے موافق ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ سورۃ اتنا عرصہ پہلے نازل ہوئی ہے کہ یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے ابتدائی زمانہ میں نازل ہونے کے خلاف کوئی بات کہی جا سکتی ہو اس لئے ہمیں اس سورۃ کے متعلق کسی بات کی تردید کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔اس کے مضامین ایسے ہی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ دشمن اپنی دشمنی کو شروع کرنے والا ہے۔اس میں ایسی