تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 97

اور بھی کئی پیشگوئیاں بائیبل میں پائی جاتی ہیں اور ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قولِ فصل کا دنیا کو ایک مدت سے وعدہ دیا جا رہا تھا اور ضروری تھا کہ اب اس وعدہ کو پورا کر دیا جاتا۔حضرت موسیٰعلیہ السلام کی پیشگوئی کا تو تورات میں آج تک ذکر موجود ہے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی کا تورات میںکہیں وضاحت کے ساتھ ذکر نہیں آتا صرف قرآ ن کریم نے اس کا ذکر کیا ہے لیکن قرآن کریم کے اس دعویٰ کی صداقت کا ثبوت یہ ہے کہ مکہ کے لوگوں کے سامنے قرآن کریم نے یہ بات پیش کی اور بڑے زور سے اعلان کیا کہ قرآن کے متعلق صحف ابراہیمؑ اور صحف موسٰی میں پیشگوئی پائی جاتی ہے۔مگر کفار میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہ کیا اور انہوں نے ایک دفعہ بھی یہ اعتراض نہیں کیا کہ تم غلط کہتے ہو صحف ابراہیمؑ میں اس قسم کی کوئی پیشگوئی نہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لاکھوں لوگوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ ابراہیمؑ نے یہ پیشگوئی کی ہوئی ہے کہ میرے بعد ایک شرعی نبی آئے گا۔یہی وجہ ہے کہ وہ خاموش رہے۔ورنہ وہ کفار جو بات بات پر اعتراض کرنے کے عادی تھے اتنی اہم بات پر کس طرح خاموش رہ سکتے تھے۔خود قرآن کریم نے کفار کے کئی اعتراضات کو نقل کیا ہے مگر کہیں بھی ان کے اس اعتراض کا ذکر نہیں آتا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف ایک غلط بات منسوب کر دی گئی ہے۔انہوں نے کوئی پیشگوئی قرآن کے متعلق یا اپنے بعد کسی شرعی نبی کے آنے کے متعلق نہیں کی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب میں کثرت سے یہ پیشگوئیاں رائج تھیں اور لوگوں کو امید تھی کہ اب ان پیشگوئیوں کے مطابق ضرور کوئی نہ کوئی شخص ظاہر ہو گا چنانچہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں میں سے بعض لوگوں نے اپنے بچوں کا نام محمد رکھنا شروع کر دیا تھا کیونکہ تورات کی پیشگوئیوں سے انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ آنے والے کا نام محمد ہو گا اس بنا پر انہوں نے اپنے بچوں کا نام محمد رکھنا شروع کر دیا کہ شائد ہمارا بچہ ہی نبی بن جائے اور ان پیشگوئیوں کا مصداق ہو جائے۔غرض آنے والے موعود کے متعلق عربوں کے دلوں میں امیدیں پائی جاتی تھیں اور وہ اس بات کے منتظر تھے کہ کب ان پیشگوئیوں کا مصداق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے۔