تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 96
ایک قولِ فصل کی خبر دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ ایک بہت بڑا نبی آنے والا ہے جو اپنے ساتھ ایک کامل شریعت لائے گا۔ان صحف میں اس قسم کی پیشگوئیوں کا موجود ہونا بتا رہا ہے کہ باوجود پہلی کتب کے اس کتاب کی ضرورت تھی تبھی تو پہلے نبیوں نے اس کی خبر دی ورنہ انہیں اپنے بعد کسی اور نبی کے مبعوث ہونے یا کسی اور کتاب کے نازل ہونے کی خبر دینے کی کیا ضرورت تھی۔صحف ابراہیمؑ وموسٰی میں آنحضرتؐکے متعلق پیشگوئیاں صحف ابراہیمؑ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی جو خبر دی گئی تھی اس کو خود قرآن کریم نے نقل کیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (البقرۃ:۱۳۰) یعنی اے میرے رب تو ان میں ایک ایسا رسول مبعوث کیجیو جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاکیزہ و مطہر بنائے۔اگر ابراہیمؑ کے صحف ہی قولِ فصل ہوتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دعا کیوں کرتے۔ان کی اس دعا سے صاف پتہ لگتا ہے کہ خواہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نوحؑ کی شریعت پر عمل کرنے والے تھے جیسا کہ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ (الصّٰفّٰت :۸۴) سے ثابت ہے اور خواہ ان کے اپنے الہامات کے بعض صحف تھے۔بہرحال ان کی تعلیمیں مٹنے والی تھیں اگر مٹنے والی نہ ہوتیں تو وہ یہ دعا ہی کیوں کرتے۔یہی حال حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہے ان کی کتاب تورات میں تو نہایت صراحت کے ساتھ یہ پیشگوئی آج تک موجود ہے کہ ’’میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنی کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔‘‘ (استثناء باب ۱۸آیت ۱۸،۱۹) اسی طرح استثناء باب ۳۳ آیت ۲میں لکھا ہے ’’خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔‘‘ (استثناء باب ۳۳ آیت ۱تا۳) پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے بعد ایک شرعی نبی کے آنے کی خبر دی ہے اور بتایا ہے کہ وہ نبی بنی اسرائیل میں سے نہیں آئے گا بلکہ ان کے بھائیوں بنی اسماعیل میں سے آئے گا۔گویا ابراہیمؑ بھی ایک شرعی نبی کی خبر دیتے ہیں اور موسٰی بھی ایک شرعی نبی کی خبر دیتے ہیں جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ پہلے احکام قولِ فصل نہیں تھے قولِ فصل ابھی آنے والا تھا جس کی اللہ تعالیٰ کے کئی انبیاؑء یکے بعد دیگرے خبر دیتے چلے آئے تھے۔اس قسم کی