تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 85
سے وہ شخص نہیںکھڑاہو سکتا جو سمجھتا ہے کہ نامعلوم میرے ہمسائے اور دوست میری مدد کریں گے یا نہیں۔پس حسن ظنی کی وجہ سے اقدام عمل کے وقت زیادہ دلیری پیدا ہو جاتی ہے اور انسان قوم کی خاطرہربڑی سے بڑی قربانی کے لئے تیار رہتا ہے۔غرض یہ تین فوائد ہیں جو حسن ظنی سے حاصل ہوتے ہیں دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا لَغْوٌ فِیْھَا وَلَا تَاْثِیْمٌ نہ جنت میں لغو ہوگا نہ ایک دوسرے پر گناہ کا الزام لگانا (الطور :۲۴)اس جگہ تَاْثِیْمٌ کی جگہ کِذَّاب کالفظ رکھ دیا ہے یہ بتانے کے لئے کہ کِذَّاب اور تَأثِیْم ایک ہی چیز ہیں۔کِذَّاب کے معنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کی تکذیب کرنا اور تَأثِیْم کے معنے ہوتے ہیں ایک دوسرے پر الزام لگانا۔پس یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں۔جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ۰۰۳۷ انہیں تیرے رب کی طرف سے بدلہ دیا جائے گا جو منا سب حال انعام ؎۱ ہوگا۔الحساب۔العد گننا الکافی۔کافی (اقرب) پس عَطَآءً حِسَابًاکے معنے ہوں گے (ا) ایسی عطا جو کافی ہوگی۔(۲) ایسی عطا جو حساب میں ہو۔تفسیر۔حساب کے مطابق جزا ء دیئے جانے کا مطلب یہ تیرے رب کی طرف سے بطور جز اء کےہو گا اور عَطَاءً حِسَابًا ہوگی عَطَاءً کا لفظ جَزَاءً کے لئے مفعول مطلق کے طور پر استعمال ہوا ہے یعنی یہ ایسی جزاء ہو گی جو حساب کے مطابق ہو گی۔حساب کے مطابق جزاء ہونے سے بظاہر اس امر پر زور معلوم ہوتا ہے کہ وہاں حساب سے زیادہ جزاء نہیں ہو گی حالانکہ قرآن کریم کی بعض دوسری آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا رحیمؔ ہے اور انسانی اعمال سے بہت زیادہ جزاء دیتا ہے۔پس بظاہر یہ بات اُن آیات کے خلاف نظر آتی ہے کہ ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ہم مومنوں کو ان کے کام سے زیادہ جزاء دیں گے اور دوسری جگہ یہ فرما دیا کہ حساب کے مطابق جز اء ہو گی۔حساب کے مطابق ملنے سے مراد ضرورت کے مطابق ملنے کے اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کے حساب کے معنے حساب کے مطابق کے علاوہ اور بھی ہوتے ہیںچنانچہ حساب کے ایک معنے گننے کے بھی ہوتے ہیںاور کافی کے بھی ہوتے ہیں (اقرب) یعنی ایسی چیز جس سے ضرورت پوری ہو جائے پس عَطَاءً حِسَابًا کا یہ مطلب ہواکہ ایسی عطا جس سے انسان کی ہر ضرروت پوری ہو جائے۔چنانچہ ابن کثیر لکھتے ہیں کَافِیًا وَافِیًا ؎۱ حِسَابًا صفت ہے عَطَائً کی اور عَطَائً مفعول مطلق ہے جَزَائً کا جس کا عامل محذوف ہے۔