تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 84
اور ہر حصہ قوم مفید ضرورت میں لگ ر ہا ہوتا ہے جب انسان لغو نہیں کرے گا تو لازماً وہی کام کرے گا جو ضروری ہو گا اور جس کا مفید نتیجہ نکل سکے گا اور جب ساری قوم ایسے ہی کاموں میں حصہ لے گی جن کے مفید نتائج نکل سکتے ہوں تو قومی ترقی جلد جلد ہو گی۔پس لغوؔ کی طرف توجہ نہ کرنے کے تین فوائد ہیں۔اولؔ اس کے نتیجہ میں وقت ضائع نہیں ہوتا دومؔ ذہنوں میں مقاصدکی طرف توجہ پیداکرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے سومؔ اُو پر کی دو باتوں کے نتیجہ میں قوم جلد جلد ترقی کی طرف قدم اُٹھاتی ہے۔وَلَا کِذَّابًا: پھر شراب سے لڑائی جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے مگر یہ وہ نشۂ محبت ہے جس میں کذاب نہیں جس میں لڑائی اور جھگڑے کی کوئی صورت نہیں بلکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی تائید اور تصدیق کرنے والا ہی ہوگا۔کِذَّاباور تَکْذِیْب بھی قومی ترقی کی جڑ کو لغو کی طرح کاٹنے والی چیز ہے جو شخص دوسرے کی تکذیب نہیں کرتا لازمی بات ہے کہ وہ حسن ظنّی کرے گا کیونکہ تکذیب نہ کرنے کا لازمی نتیجہ حسن ظنی ہے اور جب وہ حسن ظنی کرے گاتو لازمی بات ہے کہ اس کے نتیجہ میں دلوں کو اطمینان حاصل ہو گا۔ساری خرابی بدظنی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اگر انسان بد ظنی سے کام لینے لگے تو وہ یہ بھی خیال کر سکتا ہے کہ میری بیوی نے کہیںکھانے میں زہر نہ ملا دیا ہو۔لیکن اگر اس طرح انسان خیال کرنے لگے تو یہ دنیا ہی دوزخ بن جائے۔اسی طرح اور بیسیوں معاملات ہیں جن میں حسن ظنی سے کام لینا پڑتا ہے اور اگر انسان شکوک وشبہات میں مبتلا رہے تو اس کے معاملات میں بیسیوں خرابیاں پیدا ہو جائیں۔لیکن جب لڑائی جھگڑا نہ ہو اور کاموں کی بنیاد حسن ظنی پر ہو تو دلوں کو اطمینان رہتا ہے اور یہ ایک بہت بڑی قومی نعمت ہے جو حسن ظنی سے حاصل ہوتی ہے۔پھراس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قومی تعاون حاصل ہوتاہے جب انسان حسن ظنی سے کام لے گا تونیکی کے کاموں میں وہ دوسروں کی مدد بھی کرے گا اور ان کے تعاون کو بھی قدر کی نگا ہ سے دیکھے گا اور اس طرح ایک دوسرے کے تعاون سے قوم میں ترقی کی روح پیدا ہو گی اگر انسان یہ خیا ل کرے کہ فلاں شخص تو میرا دشمن ہے تو اس کے بعد وہ اس کی مدد کے لئے کھڑا نہیں ہوسکتا لیکن اگر وہ یہ بدظنی نہ کرے اوریہی سمجھے کہ وہ میرا دوست ہے تو مشکلا ت کے وقت وہ اس کی مدد کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔پس حسن ظنی کا دوسرا فائد ہ یہ ہے کہ قومی تعاون کی رُوح اس سے ترقی کرتی ہے۔تیسرے حسن ظنی کے نتیجہ میں اقدام عمل کے وقت یہ خوف نہیں ہوتا کہ دوسرے الزام لگا کر میری سکیم کو ناکام بنا دیں گے۔بلکہ وہ دوسروں پرحسن ظنی کرتے ہوئے ہر خطرہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے مثلاً کوئی شخص مصیبت میں مبتلا ہو اور یہ سمجھے کہ اس کے ہمسائے فوراً اس کی مصیبت دور کرنے کے لئے خطرہ میں کود پڑیں گے تو جس دلیری سے وہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا ہو گا اس دلیری