تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 83

بکواس اوربےہودہ باتیں ہیں۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ اپنے گھر میں ٹہل رہا تھاجب میں ٹہلتے ٹہلتے اس دیوار کے پاس پہنچا جو گلی کی طرف ہے تو مجھے اس وقت ایک آدمی کی آواز سنائی دی جو دوسرے شخص کا نام لے کر کہہ رہا تھا سندرسنگھا پکوڑے کھانے این یعنی سندر سنگھ کیا پکوڑے کھائو گے۔تھوڑی دیرکے بعد اُس نے پھر یہی فقرہ کہا۔کچھ دیر گزری تو پھر مجھے یہی آواز آئی مگر دوسری طرف سے کوئی جواب ہی نہیں ملتا تھا۔میں نے دیوار پر سے جھانکا تو مجھے نظر آیا کہ مسجد اقصیٰ کے پاس جو موڑ ہے جہاں نظارتوں کے دفاتر ہیں وہ ایک شخص ٹیک لگائے شراب کے نشہ کی حالت میں یہ فقرہ دوہراتا چلا جا رہا ہے اور اُس کا مخاطب ساتھی اُس وقت وہاں تک پہنچ چکا تھا جہاں اُم طاہر کا مکان ہے یعنی کہنے والے سے کوئی پچاس گز کے فاصلہ پر۔مگر وہ یہی کہتا جا رہا تھاکہ سندر سنگھ پکوڑے کھانے ہیں۔اس طرح وہ کتنی ہی دیر وہاں پر بیٹھا یہ فقرہ دُہراتا رہا حالانکہ دُوسرا شخص اُس وقت تک غالباً دوسرے گائوں تک پہنچ چکا ہوگا۔جنت کی نعماء کو لغو اور کذاب سے پاک رکھے جانے سے ان کے تین فوائد کی طرف اشارہ غرض شراب میں یہ ایک بہت بڑا نقص ہے کہ انسان لغو باتیں کرنے لگ جاتا ہے۔دُوسرا نقص اس میں یہ ہے کہ اس کے پینے والا دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور اُسے گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔کِذَّابًا کَذَّبَ کا مصدر ہے اور اس کے معنے ایک دوسرے کو جھٹلانے کے ہوتے ہیں۔ایک کہتا ہے تُو نے یہ کہا تھا۔دوسرا کہتا ہے مَیں نے یہ نہیں کہا تھامیں نے تو وہ بات کہی تھی۔اس وجہ سے اُسی شرابی کا ذکر کر کے قرآن کریم فرماتا ہے لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًا جنت کی نعماء خواہ شراب کے پیالوں میں ملیں۔خواہ عشق الٰہی کی شراب کے پیالے ان کو پلائے جائیں۔اس شراب کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں لغو نہیں ہو گا اورنہ کِذّاب ہو گا۔لغو سے انسان کا وقت ضائع ہوتا ہے اِسی لئے شراب پی کر انسان ایسی باتوںکی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جو وقت کو ضائع کرنے والی ہوتی ہیں۔مثلاًجوا عام طور پرشراب پی کر ہی کھیلا جاتا ہے۔لیکن لغو نہ ہونے سے اولؔ وقت ضائع نہیں ہوتا۔دومؔ ذہن کام کے سوادوسرے امور کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور توجہ کے قیام سے ترقی جلد جلد ہوتی ہے۔جب انسان لغو امور کی طرف توجہ کرتا ہے تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنے وقت کوضائع کر دیتا ہے اور توجہ کا اجتماع پیدا نہیں ہوتا۔لیکن جہاں لغو نہ ہو وہاں اجتماعِ توجہ خوب ہوتا ہے اور کام کی چیزوں کی طرف توجہ رہتی ہے۔اور چونکہ اس کی عادت میں بات داخل ہو جاتی ہے کہ وہ کام کی طرف توجہ کرے۔لغو کاموں میں حصہ نہ لے۔اس لئے اس کے اندر غور اور فکر کی قوت بڑھ جاتی ہے اور ہر بات کی طرف توجہ کرنے کی اُسے عادت پیدا ہو جاتی ہے۔تیسراؔ فائدہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہر حصہ کام