تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 82

تفسیر۔متقیوں کو لبالب بھرے ہوئے پیالے ملنے کا مطلب پہلے اللہ تعالیٰ نے اَعْنَاب کا ذکر کر کے فرمایاتھا جن سے شراب بنتی ہے۔اب یہ بتا یا کہ وہ مذکورہ بالا شرابِ معرفت میں اتنے متوالے ہوں گے کہ ان کا نشہ کبھی ختم ہی نہ ہو گا اور ان کی طبیعتوں میں کہیں سیری حاصل نہیں ہو گی۔ایک پیالہ ختم ہو گا تو دوسرا پینا شروع کر دیں گے دوسرا پیالہ ختم ہو گا تو تیسر اپیالہ شروع کر دیں گے یعنی ایک قربانی کرلیں گے تو دوسری کے لئے تیار ہو جائیں گے۔دوسری قربانی کریں گے تو تیسری کے لئے تیار ہو جائیںگے گویا محبت الٰہی کا پیالہ وہ سیر ہو کر زمین پر رکھیںگے ہی نہیں۔ہر وقت اُن کا پیالہ بھرا ہوا رہے گا اور عشق الٰہی کے نشہ میں انہیںقربانی کی ایسی عادت پڑ جائے گی کہ کسی موقعہ پر بھی اُن کی طبیعت میں سیری نہیں ہوگی اور چونکہ اگلے جہان کی لذتیں روحانی ہوں گی گو یہ بھی صحیح ہے کہ ان کی ایک جسمانی شکل بھی ہو گی مگر بہرحال چونکہ اصلی لذت روحانی ہو گی اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان کو ایسے پیالے ملیں گے جو ہمیشہ بھرے رہیں گے اُن میں کبھی کوئی کمی نہیں آئےگی تو ان الفاظ کو جہاں اگلے جہا ن پر چسپاں کیا جاتاہے وہاں اس کے معنے یہ بھی ہوں گے کہ ان کے دل محبت الٰہی سے ہمیشہ لبریز رہیں گے۔قربانی ان کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹائے گی بلکہ ہر قربانی کے بعد ان کا دل چاہے گا کہ ہم اور قربانی کریں اور اپنے عشق کا مظاہر ہ کریںاور جب وہ دبارہ اپنے عشق کا مظاہر ہ کریں گے تو ان کے دلوں میں خواہش پیدا ہو گی کہ ہم اپنے عشق کا اب تیسرا مظاہر ہ کریں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ۰۰۳۶ نہ تو وہ اِن (جنتوں) میں لغوباتیں سنیں گے اور نہ (ایک دوسرے کو) جھٹلانے والا کلام۔تفسیر۔لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاکے الفاظ بیان کرنے کی حکمت چونکہ اللہ تعالیٰ نے محبت الٰہی کی مشابہت شراب سے دی تھی اور شراب میں بعض نقائص ہوتے ہیںاس لئے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی ذکر فرما دیا کہ گو وہ شراب کی طرح محبت الٰہی کے نشہ میں سرشار ہوں گے مگر ہمارا اس سے یہ مطلب نہیں کہ شراب کے نقائص بھی ان میں پائے جاتے ہوں گے۔شراب کی خرابی یہ ہے کہ اُس میں لغو بہت ہوتا ہے اسی طرح اُس میں تکذیب ہوتی ہے یعنی شرابی لغو اور فضول باتیںبھی کرتے ہیں۔اور آپس میں لڑتے جھگڑتے بھی ہیں۔مگرفرمایا لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًا وہ نہ اس میں کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ تکذیب کی کوئی بات سنیں گے۔لغو سے مراد